بدعنوانیوں اور گھوٹالوںکو کھول کر رکھ دیا، ریاست کے عوام کو متنبہ کیا کہ ’’ایک خاندان ‘‘سب کچھ لوٹ رہا ہے۔
پرینکا گاندھی۔ تصور:آئی این این
آسام میں کانگریس کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کی سینئر لیڈر اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ کو وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرماکو جم کر آڑے ہاتھوں لیا اورعوام کو ان کے گھوٹالے یاد دلائے۔ یکے بعد دیگرے کم از کم ۳؍ انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نےکہاکہ’’آسام میں ایک خاندان سب کچھ لوٹ رہا ہے۔ جب وہ لوٹ نہیں رہے ہوتے تو کانیں، زمینیں اور دیگر تمام اثاثے بڑے صنعتکاروں کو سونپ رہے ہوتے ہیں۔‘‘
ریاست میں بی جے پی کے دور اقتدار میں ہر سطح پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے شاردھا، اسمارٹ سٹی اور این سی ہلز جیسے پرانے گھوٹالوں کا بھی حوالہ دیا۔ پرینکا گاندھی نے وزیراعظم کو بھی نشانہ بنایا اورکہا کہ ’’بی جے پی نے کہا تھا کہ انہوں نے ڈبل انجن کی حکومت دی ہے۔ حقیقت میں یہ ‘ڈبل غلامی’ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم مودی امریکہ کے ٹرمپ اور اسرائیل کے نیتن یاہو کی غلامی میں مصروف ہیں، اور ہیمنت بسوا سرما مودی کی غلامی کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بات نذیرا میں اپوزیشن لیڈر دیبا برتا سائکیا کی حمایت میں انتخابی ریلی سے خطاب میں کہی۔ کانگریس جنرل سیکریٹری نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو چائے باغان کے مزدوروں کی یومیہ اجرت بڑھانے اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے پورے نہ کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
لوک سبھا رکن نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست کی خواتین کو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی ریلیوں میں شرکت پر مجبور کیا گیا اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ نہیں آئیں گی تو ان کے نام مختلف سرکاری اسکیموں سے نکال دیے جائیں گے۔ انہوں نے للکارتے ہوئے کہا کہ ’’اسکیموں کے تحت دیا جانے والا پیسہ ہیمنت بسوا سرما کا نہیں ہے۔ یہ عوام کا پیسہ ہے اور ہر شہری کا حق ہے۔‘‘