Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل حامی ویب سائٹ نے اے آئی جوابات کو متعین کرنے کیلئے کئی رپورٹ شائع کیں

Updated: August 30, 2026, 1:06 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل حامی ویب سائٹ نے اے آئی چیٹ بوٹ کے جوابات کو متعین کرنے کیلئے سینکڑوں رپورٹیں شائع کیں ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک جعلی تھنک ٹینک کے نام پر چلنے والی ویب سائٹ نے ۹؍ دنوں میں پانچ لاکھ سے زائد الفاظ شائع کیے تاکہ دنیا بھر کے صارفین کے ویب سوالات پر اے آئی کے جوابات کو متعین کیا جا سکے۔ ایک نئے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایک جعلی تھنک ٹینک کی آڑ میں چلنے والی اسرائیل حامی ویب سائٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کو اسرائیل اور غزہ جنگ کے بارے میں معلومات پیش کرنے کے طریقے کو متعین کرنے کیلئے سینکڑوں رپورٹیں شائع کی ہیں۔گارجین کے بدھ کے تجزیے کے مطابق، ’’ایک ایسے تھنک ٹینک کے نام سے چلنے والی ویب سائٹ، جو بطور قانونی ادارہ موجود نہیں دکھائی دیتی، نے محض ۹؍ دنوں میں پانچ لاکھ سے زائد الفاظ شائع کیے تاکہ اے آئی کے جوابات کو تشکیل دیا جا سکے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بل گیٹس کا انتباہ: مصنوعی ذہانت انسانیت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، فوری حکمت عملی ضروری

’’ہینوور انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی‘‘ کے جعلی نام کے تحت چلنے والی اس ویب سائٹ نے۶؍ سے ۱۴؍ اگست کو۱۲۴؍ رپورٹیں شائع کیں، جن کا مجموعی حجم۵؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار الفاظ سے زیادہ تھا، یعنی اوسطاً ۴۵۰۰؍الفاظ فی رپورٹ۔ اس نے صرف۱۲؍ اور۱۳؍ اگست کو۷۳؍ رپورٹیں شائع کیں، جن کا مجموعی حجم تقریباً۳؍ لاکھ ۵۴؍ ہزار الفاظ تھا۔یہ ویب سائٹ اسرائیل کے موقف کو فلسطینی قیدیوں پر تشدد، اسرائیلی جنگی جرائم، اور آیا اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کو جان بوجھ کر بھوکا رکھا ہے، جیسے معاملات پر پیش کرتی ہے، یہ سب جھوٹے طور پر ’’غیر جانبدار‘‘ تحقیق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس ویب سائٹ کا کوئی پتہ، نامزد عملہ، یا مصنفین کے نام نہیں ہیں، اور یہ ’’انسٹی ٹیوٹ‘‘ کسی بھی دائرہ اختیار میں قانونی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ نہیں دکھائی دیتا۔
بعد ازاں گارجین نے رپورٹ کیا کہ یہ ویب سائٹ اسرائیلی حکومت کی ایک وسیع تر امدادی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد اے آئی چیٹ بوٹس کو متاثر کرنا ہے، جس میں کروڑوں ڈالر مبینہ طور پر تیسرے فریقوں، بشمول اشتہاری کمپنی ہاواس میڈیا، کے ذریعے بھیجے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، اس ویب سائٹ کی تقریباً تمام سرخیاں اے آئی چیٹ بوٹس کے سوالات سے مشابہت رکھنے والے سوالیہ جملوں میں ترتیب دی گئی ہیں، جیسے ’’ کیا صیہونیت مخالف یہود دشمنی ہے؟‘‘  اور ’’کیا اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے؟‘‘ تاہم رپورٹس ایک علمی اسلوب استعمال کرتی ہیں اور اقوام متحدہ کے اداروں، عالمی بینک، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت، مبینہ طور پر ایک ایسے انداز میں ذرائع کا حوالہ دیتی ہیں جو اے آئی چیٹ بوٹس کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۷؍فلسطینی شہید، متعدد افراد زخمی

تاہم، گارڈین نے پایا کہ یہ رپورٹس معلومات کو مسلسل اس طرح ترتیب دیتی ہیں کہ اسرائیل پر تنقید کو کم کیا جا سکے۔ مثال کے طور پر، اسرائیل کی نسل کشی اور نسل پرستی (اپارتھائیڈ) کے حوالوں کے بعد بارہا یہ بیانات دیے جاتے ہیں کہ ان دعووں پر کوئی حتمی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ نک کلیولینڈ-اسٹاؤٹ نے گارجین کو بتایا کہ ابتدا میں یہ سائٹ انتہائی پیشہ ورانہ دکھائی دیتی تھی، لیکن قریب سے جانچ کرنے پر اس کا زیادہ تر حصہ بے معنی ہے۔کلیولینڈ-اسٹاؤٹ نے کہا کہ اس مہم کا زیادہ اہم مقصد اے آئی ٹریننگ ڈیٹا کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس کا مواد کامن کرال جیسے ذخیروں میں داخل ہو جاتا ہے، جو اے آئی ٹریننگ ڈیٹاسیٹس میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، تو اس مہم کا زیادہ اثر ہو سکتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا، ’’جب یہ چیٹ بوٹ اپنی تربیت یافتہ رپورٹ کو دہراتا ہے، تو یہ ذرائع کا حوالہ بھی نہیں دیتا، آپ اس کی حقائق جانچ نہیں کر سکیں گے۔‘‘کلیولینڈ-اسٹاؤٹ نے مزید کہا کہ’’ یہ انسٹی ٹیوٹ چیٹ بوٹس کے دیے جانے والے جوابات کو متاثر کرنے میں کامیاب ہے اور رہے گا۔لیکن وہ رائے عامہ کے جائزے نہیں بدل رہے، جس کی اسرائیل کو حقیقت میں پرواہ ہے،‘‘انہوں نے کہا، ’’شاید اس سے مراد دنیا بھر میں اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضگی  ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK