Updated: May 04, 2026, 7:18 PM IST
| Michigan
مشی گن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ڈیرک آر پیٹرسن نے اپنی گریجویشن تقریر میں فلسطینی حامی طلبہ کارکنوں کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت کی بلکہ کیمپس میں سیاسی مکالمے کو بھی آگے بڑھایا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں سرگرمیوں کو سخت نگرانی اور تادیبی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
پروفیسر ڈیرک آر پیٹرسن تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
امریکہ میں تعلیمی اداروں کے اندر سیاسی سرگرمیوں اور طلبہ کے کردار پر جاری بحث کے درمیان مشی گن یونیورسٹی کے ایک پروفیسرڈیرک آر پیٹرسن نے اپنی گریجویشن تقریر کے دوران فلسطینی حامی طلبہ کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کر کے ایک اہم پیغام دیا۔ یہ تقریر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی کیمپس میں فلسطین کے حق میں ہونے والی سرگرمیوں کو شدید جانچ پڑتال، تنقید اور بعض اوقات تادیبی اقدامات کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں، پروفیسر کا یہ اقدام نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے آزادی اظہار اور تعلیمی اداروں میں مکالمے کی اہمیت کے طور پر بھی تعبیر کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر ڈیرک آر پیٹرسن نے اپنی تقریر میں ان طلبہ کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے کیمپس میں مظاہروں کی قیادت کی اور اہم عالمی مسائل پر بحث کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کیا بلکہ ایک ایسا ماحول بھی پیدا کیا جہاں مختلف نقطہ نظر پر بات چیت ممکن ہو سکی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیاں صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایسے مقامات بھی ہیں جہاں سماجی اور سیاسی شعور پروان چڑھتا ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ کی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ نئی نسل عالمی مسائل سے آگاہ ہے اور ان پر اپنی رائے دینے سے نہیں ہچکچاتی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو نکالنے کیلئے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان، ایران کی سخت وارننگ
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ بھر کی کئی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندیاں لگانے، طلبہ کو معطل کرنے یا ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات آزادی اظہار کو محدود کرتے ہیں، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات کیمپس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس تقریر نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کس حد تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ طلبہ کو اپنے خیالات کے اظہار کا مکمل حق ہونا چاہیے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ تعلیمی ماحول کو غیر جانبدار رکھنا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ۳؍کروڑ سے زائد افراد وفاقی غذائی امداد سے محروم: رپورٹ
ڈیرک آر پیٹرسن کی تقریر کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ ملی ہے، جہاں کچھ لوگوں نے اسے جرات مندانہ قدم قرار دیا، جبکہ دیگر نے اس پر تنقید بھی کی۔ تاہم، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس بیان نے ایک اہم مکالمے کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی کیمپسز میں سیاسی سرگرمیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ وہ مسلسل ارتقاء پذیر بھی ہیں۔ ایسے میں اس طرح کی تقاریر طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تعلقات، آزادی اظہار، اور عالمی مسائل پر مکالمے کے حوالے سے نئی جہتیں متعارف کرا رہی ہیں۔