مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان اور معروف اسٹار کھلاڑی محمد صلاح کو قومی ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ یہ تجویز سابق مصری کوچ اور الاحلی کلب کی منصوبہ بندی کمیٹی کے سابق سربراہ محسن صالح نے پیش کی ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 7:04 PM IST | Istanbul
مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان اور معروف اسٹار کھلاڑی محمد صلاح کو قومی ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ یہ تجویز سابق مصری کوچ اور الاحلی کلب کی منصوبہ بندی کمیٹی کے سابق سربراہ محسن صالح نے پیش کی ہے۔
مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے کپتان اور معروف اسٹار کھلاڑی محمد صلاح کو قومی ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ یہ تجویز سابق مصری کوچ اور الاحلی کلب کی منصوبہ بندی کمیٹی کے سابق سربراہ محسن صالح نے پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیفا کی جانب سے ہیڈ کوچ حسام حسن اور ٹیم کے منیجر ابراہیم حسن پر تین، تین میچوں کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد محمد صلاح کو آئندہ تین مقابلوں کے لیے ٹیم کی قیادت سونپی جاسکتی ہے۔ محسن صالح کے مطابق محدود وقت میں ٹیم کو سنبھالنے کے لیے صلاح موزوں شخصیت ہیں اور ان میں اس ذمہ داری کو نبھانے کی ذاتی اور فنی صلاحیتیں موجود ہیں۔ تاہم یہ واضح رہے کہ محمد صلاح کو کوچ مقرر کرنے کے حوالے سے ابھی تک مصری فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
فیفا نے مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن اور ٹیم کے منیجر ابراہیم حسن کو ارجنٹائنا کے خلاف ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل مقابلے کے بعد پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں تین، تین میچوں کے لیے معطل کردیا تھا۔ مصر کو اس مقابلے میں ارجنٹائنا کے ہاتھوں ۲-۳ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میچ کے بعد حسام حسن نے ریفری کے فیصلوں پر تنقید کی تھی، جبکہ مصری فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق ابراہیم حسن کو بھی اسی معاملے میں سزا دی گئی۔ پابندی کے تحت دونوں عہدیدار میچ کے دوران ڈریسنگ روم، کھلاڑیوں کی سرنگ، ٹیکنیکل ایریا اور متبادل کھلاڑیوں کے بینچ تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی کھلاڑیوں سے براہِ راست رابطہ کرسکیں گے۔
محسن صالح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھایا کہ جب ٹیم کے اہم کوچنگ عہدیدار تین میچوں کے لیے معطل ہیں تو قومی ٹیم کی قیادت کون کرے گا؟ اس کے بعد انہوں نے محمد صلاح کو عبوری کوچ بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں صلاح اگلے تین مقابلوں کے لیے موزوں انتخاب ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق صلاح میں نہ صرف فٹبال کی تکنیکی سمجھ بوجھ ہے بلکہ وہ کھلاڑیوں کے درمیان اثر و رسوخ اور قیادت کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مصر کو نومبر میں ۲۰۲۷ء کے افریقی کپ آف نیشنز (Africa Cup of Nations 2027) کے کوالیفائنگ مقابلوں میں ملاوی کا سامنا کرنا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ ۱۳؍نومبر کو قاہرہ میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا مقابلہ ۱۷؍نومبر کو ملاوی میں ہوگا۔ معطلی کے تحت حسام حسن اور ابراہیم حسن ان دونوں میچوں کے علاوہ مارچ ۲۰۲۷ء میں انگولا کے خلاف مقابلے میں بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ محمد صلاح کو عبوری کوچ بنانے کی تجویز اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ وہ خود مصر کی قومی ٹیم کے اہم کھلاڑی اور کپتان ہیں۔ محسن صالح نے اس تجویز کی حمایت میں ایسے سابق عالمی فٹبالرز کی مثالیں بھی پیش کیں جنہوں نے اپنے کھیل کے کریئر کے دوران کوچنگ یا ٹیم کی قیادت کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ ان میں لیورپول کے کینی ڈالگلیش، چیلسی کے روڈ گُلٹ اور جانلوکا ویالی، مانچسٹر یونائیٹڈ کے ریان گگز اور لائبیریا کے جارج ویا کے نام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور اور یش کی فلم ’’رامائن‘‘ کی باکس آفس پر شاندار شروعات
دوسری جانب مصری میڈیا میں بھی محمد صلاح کو قومی ٹیم کی تکنیکی ذمہ داری دینے کے امکان پر گفتگو ہوئی ہے۔ میڈیا شخصیت احمد شوبیر نے دعویٰ کیا کہ فٹبال ایسوسی ایشن کے اندر صلاح کو کھلاڑی رہتے ہوئے ٹیم کی کوچنگ سے متعلق ذمہ داری دینے کے امکان پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس تجویز کے عملی طور پر قابلِ عمل ہونے پر شبہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق اس معاملے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ محمد صلاح کو عبوری کوچ بنانے کی تجویز نے مصر کی قومی ٹیم کے مستقبل اور کوچنگ انتظامات سے متعلق بحث کو تیز کردیا ہے۔ ایک طرف حسام حسن کی معطلی کے باعث ٹیم کو آئندہ مقابلوں کے لیے متبادل انتظامات درکار ہیں، تو دوسری جانب صلاح جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو کوچنگ کی ذمہ داری دینے کا خیال بھی توجہ حاصل کررہا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مصری فٹبال ایسوسی ایشن اس تجویز کو قبول کرتی ہے یا کسی دوسرے عبوری کوچ کو ذمہ داری سونپتی ہے۔ فی الحال محمد صلاح کے کوچ بننے کی خبر ایک تجویز اور میڈیا میں زیرِ بحث امکان ہے، باضابطہ تقرری نہیں۔