وزیر ٹرانسپورٹ نے یقین دلایا کہ فوری طور پر کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ٖپرتاپ سرنائیک ۔ تصویر:آئی این این
ریاستی وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نےکہاہے کہ ایندھن کے داموں میں اضافے کے پیش نظر مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے کرایہ میں اضافے کی تجویز زیر غور ہے لیکن کرایہ میں فوری اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنےکہا’’ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب ایس ٹی کارپوریشن پر سالانہ ۱۲۴؍ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔‘‘
پیر کو منترالیہ کے کانفرنس ہال میں پرتاپ سرنائیک کی صدارت میں ایس ٹی کارپوریشن کے سینئر افسران کی میٹنگ ہوئی جس میں ایس ٹی کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر مادھو کوسیکر اور دیگر افسران میں موجود تھے۔وزیر پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ’’ ایس ٹی کارپوریشن کو روزانہ اوسطاً ۱۰؍لاکھ ۸۷؍ ہزار لیٹر ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال، انڈین آئل کارپوریشن کے ذریعے ڈیزل کی سپلائی کی جا رہی ہے۔۸۸؍ روپے ۲۱؍ پیسے روپے فی لیٹر کی قیمت اب بڑھ کر۹۱؍ روپے ۳۱؍ پیسے ہو گئی ہے۔ اس طرح ۳؍ روپے ۱۰؍ پیسے فی لیٹر کے حساب سےکارپوریشن کو سالانہ تقریباً ۱۲۴؍کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑے گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی وجہ سے کارپوریشن کو تقریباً۳۳؍ لاکھ ۷۰؍ ہزارروپے روزانہ کی اضافی لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے جو کہ ماہانہ تقریباً ۱۰؍کروڑ روپے ہے۔
سرنائیک نے کہا کہ ایس ٹی کارپوریشن کو اپریل کے مہینے میں تقریباً۷۶؍ کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت کا کارپوریشن کی مالی حالت پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے، اور مستقبل میں بسوں کے کرایوں میں اضافے کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم، کرایے میں کوئی اضافہ فوری طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا، لیکن مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی رہنمائی کے تحت، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے مطابق کرایہ میں اضافے کی تجویز منظوری کیلئے اسٹیٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو پیش کی جائے گی۔ وزیر پرتاپ سرنائیک نے واضح کیا کہ متعلقہ اتھاریٹی کی منظوری کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت مسافروں پر مالی بوجھ کو کم کرنے کیلئے متبادلات پر غور کر رہی ہے اور ایندھن کی بچت، ای بسوں کے استعمال میں اضافہ، لاگت پر قابو پانے اور آمدنی میں اضافے کے اقدامات پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔