• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر اور گیانیش کمار کیخلاف احتجاج

Updated: October 24, 2026, 11:28 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

بھگت سنگھ جن ادھیکار یاترا اور دشا اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے کارکنوں نے ممبئی یونیورسٹی کالینہ کیمپس کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی شاکھاکہا۔

Students are protesting at the gate of the Mumbai University Kalina campus. Photo: Inquilab
طلبہ ممبئی یونیورسٹی کالینہ کیمپس کے گیٹ پر احتجاج کررہے ہیں۔ تصویر: انقلاب

ایس آئی آر کی آڑ میں کی گئی   انتخابی  دھاندلی اور ووٹ چوری کے خلاف جمعہ کو کالینہ یونیورسٹی کیمپس کے گیٹ پر زبردست احتجاج کیا گیا۔ دشا چھاتر سنگھٹن اور بھگت سنگھ جن ادھیکار یاترا  کے اشتراک سے کئے گئے احتجاجی مظاہرے میں رضاکاروں اور طلبہ نے ایس آئی آر کو مکمل طور پر واپس لینے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کا پُر زور مطالبہ کیا۔ طلبہ اور کارکنان بڑے بینر اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ اس پر الیکشن کمیشن کے دفتر کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی شاکھا قرار دیتے ہوئے بھی نعرے بازی کی گئی۔ ایک پلے کارڈز پر اردو میں لکھا تھا ’’ایس آئی آر لسٹ ووٹ کا حق چھیننے کی سازش ہے‘‘۔ اسی طرح مزید نعرے لکھے ہوئے تھے ۔ کچھ طلبہ دف بجاکر بلند آواز سے یہی نعرے دہراتے نظرآئے۔

ڈاکٹر پوجا ( بھگت سنگھ جن ادھیکار یاترا   کی کوآرڈینیٹر ) نے ایس آئی آر کے خلاف ملک بھر میں تحریک جاری رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نئی ووٹر لسٹ کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے اس پر زور دیا کہ یہ عمل عام لوگوں بالخصوص مسلمانوں، دلتوں، آدیواسیوں اور محنت کش طبقے کو ان کے ووٹ کے بنیادی  آئینی حق سے محروم کرنے کا فاشسٹ طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پیرس کے نواح میں فائرنگ، ایک ہلاک، ۵؍ زخمی؛ مسلم مخالف عناصر شامل ہونے کا دعویٰ

دراصل بی جے پی آر ایس ایس اتحاد کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے اختیار کا غلط استعمال کرنے میں الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا اہم رول ہے اس لئے  انہیں گرفتاری کیا جائے اور الیکشن ایکٹ ۲۰۲۳ء کو فورا منسوخ کیا جائے۔ ڈاکٹر پوجا نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ ’’ ساتھیو، ہمارے سیاسی اور جمہوری حقوق کی جنگ شہید بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی وراثت کو ہمیں ہرحال میں برقرار رکھنا ہے۔

اس ضمن میں ملک کے مختلف  حصوں بالخصوص دہلی کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے دشا کے رکن اویناش نے کارکنوں اور عام لوگوں کی حراست اور گرفتاری، جنسی حملوں، مارپیٹ، بدسلوکی ، موبائل فون کی من مانی ضبطی، صحافیوں اور وکلاء پر حملوں اور جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر ممنوع قرار  دینے پر روشنی ڈالی اور کہا  کہ احتجاج کا حق بحال کرنا اس تحریک کا ایک غیر مذاکراتی مطالبہ ہونا چاہئے۔

اشفاق اللہ خان کو خراجِ عقیدت  پیش کیا گیا

نوجوان بھارت سبھا کے رکن راہل نے انقلابی آزادی پسند  اشفاق اللہ خان کو ان کے ۱۲۶؍ویں یوم پیدائش سے ایک دن قبل خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں آمرانہ حکمرانی کے خلاف سیکولر اتحاد کی علامت قرار دیا۔ اسی کے ساتھ راہل نے عام لوگوں کے وسیع اتحاد کے ساتھ بی جے پی کی فرقہ وارانہ اور تفرقہ انگیز سیاست کا جواب دیتے ہوئے اشفاق اللہ خان کی وراثت سے تحریک حاصل کرنے پر بطور خاص زور دیا۔احتجاج میں شامل ممبئی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے رکن ساحل پارسیکر نے پیش رو مقررین کے تمام مطالبات سے اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK