جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا’فیصلہ ‘منسوخ کرنےکامطالبہ،دستخطی مہم چلا نے کا اعلان،غیر منصفانہ عمل منسوخ نہ کرنےپر ۴؍مئی سے روزانہ مختلف علاقوںمیں احتجاج کیا جائےگا۔
مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس میںرکشا یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر ششانک رائو اور دیگر۔ تصویر:آئی این این
ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے یکم مئی ۲۰۲۶ءسے آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو مراٹھی لکھنا پڑھنا آنا لازمی قرار دیا ہے،جن ڈرائیوروں کو مراٹھی نہیں آتی ،ان کے لائسنس منسوخ کرنے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔ رکشا یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس غیر منصفانہ فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، ورنہ ۴؍مئی سے ہر روز مختلف علاقوںمیں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سے پہلے اس فیصلے کے خلاف دستخطی مہم چلائی جائے گی اور ۲۸؍ اپریل کو وزیر ٹرانسپورٹ کوایک میمورنڈم بھی دیا جائے گا۔ اس کے باوجود فیصلے کو منسوخ نہیں کیا گیا تو ممبئی سمیت ریاست بھرمیں ہر رو ز آندولن کیا جائے گا ۔
اس تعلق سے مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس میںرکشا یونینوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر ششانک رائو، جنرل سیکریٹری ولاس بھالیکر، ممبئی آٹوٹیکسی یونین کے سیکریٹری شنکر سالوی ،کارگزار صدر ماروتی کونڈے ، ولسن کلپنڈے اور دیگر نے کہا کہ مراٹھی لازمی کرنے کے فیصلے سے لاکھوں ڈرائیوروں کی روزی روٹی متاثر ہوگی، چنانچہ اس غیرمنصفانہ فیصلے کو منسوخ کیا جائے ۔اس موقع پر ششانک راؤ نے کہا کہ’’ریاست میں یکم مئی سے لائسنس یافتہ رکشااور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک اسے فوری طور پر منسوخ کر یں ۔ اسے منسوخ کرانے کیلئے پہلے مرحلہ میں شہریوں اور رکشا، ٹیکسی ڈرائیوروں کی جانب سے دستخطی مہم چلائی جائے گی۔ ان دستخطوں کے ساتھ ۲۸؍ اپریل کو پرتاپ سرنائک کی خدمت میں ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا ۔ اگر حکومت نے میمورنڈم کے بعد بھی اس فیصلے کو منسوخ نہیں کیا تو آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیور ہر ضلع کے شہری اور دیہی علاقوں کے بڑے مقامات پر احتجاج کریں گے ۔ مطالبات کی منظوری تک احتجاج روزانہ جاری رہے گا ۔‘‘انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’وزیر ٹرانسپورٹ نے ایسے ڈرائیوروں کے لائسنس منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی ہے جو مراٹھی پڑھ لکھ نہیں سکتے اور وہ مراٹھی زبان کا علم نہیں رکھتے۔ اس فیصلے سے لاکھوں آٹورکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی روزی روٹی کےبندہونےکاخطرہ ہے اور ان کے اہل خانہ مشکل میں آسکتے ہیں ۔انہیں لائسنس دیتے وقت، ان سے مہاراشٹر میں ۱۵؍ سال سے مقیم ہونے کا ثبوت طلب کیا جاتا ہے ۔ لائسنس جاری کرتے وقت، پولیس ان کی تصدیق کرتی ہے ، اس کے بعد انہیں لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔شہر ودیہی علاقوں میں لائسنس کیلئے بالترتیب ۱۵؍ اور ۵؍ ہزار روپے بطورفیس وصول کی جاتی ہے ، بعدازیں ایک ڈرائیور قرض لے کر آٹو یا ٹیکسی خریدتا ہے ۔ تمام اُصولوں اور ضابطوں پر عمل کرکے،وہ برسوں مسافروں کی خدمت کرتے ہیں۔ اب اس کیلئے مراٹھی جاننے کی شرط عائد کر کے انہیںبےروزگار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جوغیر مراٹھی داں ڈرائیوروں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ ’’ انتظامیہ کو ان ڈرائیوروں کے خلاف ضرور کارروائی کرنی چاہئے جو غیر قانونی خدمات فراہم کر رہے ہیں ۔ ریاست میں بائیک ٹیکسیاں غیر قانونی طور پر چل رہی ہیں۔ اس سروس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیاکہ’’ پرتاپ سرنائک نے مذکورہ فیصلہ بڑی کمپنیوں اور نجی صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیاہے۔‘‘