• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں احتجاج سے کاروبار متاثر، خان مارکیٹ کے تاجروں کو روزانہ کروڑوں کا نقصان

Updated: October 18, 2026, 10:16 PM IST | New Delhi

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے باعث خان مارکیٹ اور کناٹ پلیس کے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ تاجروں کے مطابق تہواروں کے موسم میں گاہکوں کی آمدورفت کم ہونے سے روزانہ۵؍ سے ۷؍ کروڑ روپے کا کاروبار متاثر ہورہا ہے۔

Protesters at Connaught Place in Delhi. Inset: People shopping at Khan Market. Photo: X
دہلی میں واقع کنات پلیس میں مظاہرینم انسیٹ: خان مارکیٹ میں لوگ خریداری کرتے ہوئے۔ تصویر : ایکس

دہلی کے خان مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے جاری احتجاج نے کاروبار کو متاثر کیا ہے اور گاہکوں کی آمدورفت میں کمی کردی ہے۔ تہواروں کے موسم میں، جب تاجروں کو بہتر فروخت اور آمدنی کی امید ہوتی ہے، ان مظاہروں کے باعث روزانہ کم از کم ۵ ؍سے ۷ ؍کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ خان مارکیٹ ویلفیئر اسوسی ایشن کے صدر انشو ٹنڈن نے اخبار دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پہلے ہی معاشی سست روی ہے اور ان مظاہروں سے کاروبار کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔ بازار میں گاہکوں کی آمدورفت تقریباً ختم ہوچکی ہے اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں ہچکچا رہے ہیں۔‘‘
سی جے پی کی جانب سے ۱۰؍ اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کئے گئے احتجاج کے دوران وسطی دہلی میں بڑے پیمانے پر سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں۔ دہلی میٹرو کے ۴۵؍ اسٹیشن بند کردیے گئے تھے، نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں سے آنے اور جانے والی تقریباً ۲۵۰؍ ٹرینیں منسوخ کردی گئی تھیں، موبائل انٹرنیٹ ۲۴؍ گھنٹے کیلئے بند رہا تھا اور دارالحکومت کی سڑکوں پر کئی مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔ نئی دہلی ٹریڈرس اسوسی ایشن نے احتیاطی تدبیر کے طور پر کناٹ پلیس میں دکانیں، دفاتر اور ریستوراں بند رکھنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس سے قبل دہلی حکومت نے جمعہ اور سنیچر کو شہر میں شراب کی دکانیں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’جنتر منتر چلو‘ : طنزیہ ویڈیو گیم کے ذریعے دنیا بھر کے صارفین کو دہلی کے مظاہروں کا تجربہ

نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انشو ٹنڈن نے کہا کہ خان مارکیٹ کے تاجروں کو روزانہ کم از کم ۵ ؍سے ۷ ؍کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کرایے کو بھی شامل کرلیا جائے تو نقصان تقریباً ۵۰؍ کروڑ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ تاجروں کیلئے حالات مسلسل مشکل ہوتے جارہے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں کیلئے جو کرائے کی دکانوں میں کاروبار کرتے ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہونے کے باوجود انہیں کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ‘‘خان مارکیٹ کے تاجروں نے کناٹ پلیس کے تاجروں سے بھی ہمدردی کا اظہار کیا، جہاں پولیس کی بیریکیڈنگ اور ٹریفک پابندیوں نے احتجاج کے باعث تجارتی سرگرمیوں کو مزید متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسی ماہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے

ٹنڈن نے کہا کہ احتجاج کرنا بنیادی حق ہے، لیکن اس بات کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ قانون کی پاسداری ہو اور عوامی زندگی مکمل طور پر مفلوج نہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا، ’’لوگوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور احتجاج کرنے والے اس ملک کا مستقبل ہیں۔ تاہم، ملک کے قانون کا احترام کیا جانا چاہئے اور ان سرگرمیوں کے دوران نظم و ضبط برقرار رہنا چاہئے۔ عام شہریوں اور عوام کو پریشانی میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ ‘‘دریں اثنا، جمعہ کو کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں سی جے پی کے ’لہرا دو ترنگا‘ اجتماع سے قبل جمعرات کی رات کناٹ پلیس کے بعض تاجروں اور چند مظاہرین کے درمیان بحث ہوگئی۔ اس واقعے کی مبینہ ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جن میں تاجروں اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی دیکھی جاسکتی ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں کسی تشدد یا شکایت کی اطلاع نہیں ملی۔ احتجاج کے باعث کناٹ پلیس کے تاجروں اور خوانچہ فروشوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی’لہرا دو ترنگا‘ مارچ: پرکاش راج نے جمہوری حقوق اور پُرامن احتجاج کی حمایت کی

جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں دہلی کے رہائشی انیل کمار گپتا کی جانب سے دائر کردہ مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) پر سماعت ہوئی۔ گپتا نے دعویٰ کیا کہ وہ خوانچہ فروشوں اور چھوٹے تاجروں کے حقوق کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، جن کا کاروبار جنتر منتر اور اس کے آس پاس مسلسل ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس کی اس یقین دہانی کو ریکارڈ پر لیا کہ وہ اجتماعات کو منظم کرنے اور امن و امان برقرار رکھنےکیلئے ضروری اقدامات کرے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK