Updated: January 12, 2026, 1:06 PM IST
| Tehran
ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد۵۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بدستور جاری ہے۔ ادھر امریکہ کی ممکنہ مداخلت پر ایران نے سخت ردِعمل کی وارننگ دی ہے اور عالمی برادری نے تحمل اور رابطوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این
ایران نے ممکنہ امریکی مداخلت کے خلاف خبردار کیا، جبکہ احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد۵۰۰؍ سے تجاوز کر گئی۔ ایک امریکی نژاد انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، ایران میں ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ اب تک کم از کم۵۴۴؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کی جانب سے نافذ کیا گیا مواصلاتی بلیک آؤٹ اب۸۴؍ گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ’’مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے‘‘، جبکہ ان کی انتظامیہ مداخلت کیلئے ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے فوجی مداخلت کی تو امریکی فوجی اور تجارتی اڈوں کو جوابی کارروائی کے اہداف سمجھا جائے گا۔ مظاہرے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ لاس اینجلس میں، ایک شخص کو حکومتِ ایران مخالف مظاہرین کے ہجوم میں ٹرک چڑھانے کے بعد حراست میں لیا گیا۔ تہران میں، لندن میں ایک مظاہرین کی جانب سے ایرانی سفارت خانے کا پرچم اتارنے کے بعد برطانوی سفیر کو طلب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائن نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے منصوبے روک دیئے
ایران ایک اور دن بھی انٹرنیٹ کے بغیر
سائبر سیکوریٹی واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کم از کم۸۴؍ گھنٹوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل، اس گروپ نے کہا تھا کہ بیرونی دنیا سے رابطہ معمول کی سطح کے صرف ایک فیصد تک رہ گیا تھا۔ حکام کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنوں کی بندش کے باعث زمینی صورتحال کی مکمل تصویر واضح نہیں ہو پا رہی، جس میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں جانی نقصان کی اصل تعداد بھی شامل ہے۔
ایران پر ’انتہائی سخت آپشنز‘پر غور : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کے تناظر میں ’’انتہائی سخت آپشنز‘‘ پر غور کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، جب وہ پام بیچ، فلوریڈا میں واقع اپنے مار-اے-لاگو اسٹیٹ سے واشنگٹن ڈی سی واپس جا رہے تھے، انہوں نے کہا ’’یہ لوگ پرتشدد ہیں اگر آپ انہیں لیڈر کہیں مجھے نہیں معلوم یہ لیڈرہیں بھی یا نہیں، لیکن یہ تشدد کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے، اور ہم کچھ انتہائی سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ہم فیصلہ کریں گے۔ ‘‘واضح رہے کہ ایران دسمبر کے اواخر سے اپنی قومی کرنسی کی شدید قدر میں کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایران سے متعلق ہر گھنٹے کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیوں پر ایران کا انتباہ، اسرائیل ہائی الرٹ
انٹرنیٹ کی بحالی
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے حوالے سے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ’’وہ اس طرح کے کام میں بہت ماہر ہیں، ان کے پاس ایک بہت اچھی کمپنی ہے۔ ‘‘ ٹرمپ نے رپورٹرز کے سوال کے جواب میں کہا کہ آیا وہ مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے رابطہ کریں گے، جو اسٹارلنک نامی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرتی ہے اور ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔ مسک اور ٹرمپ کے تعلقات وقتاً فوقتاً بدلتے رہے ہیں۔ مسک نے ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم کیلئےمالی معاونت کی تھی اور بعد ازاں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی منصوبہ بندی کی۔ گزشتہ سال ٹرمپ کے اہم ٹیکس بل کی مخالفت پر دونوں میں اختلافات سامنے آئے، لیکن اس مہینے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں ایک ساتھ عشائیہ کرنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں بہتری نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام نہ شیئر کیاجا سکتا ہے نہ منتقل کیا جا سکتا ہے: ماشاڈو کی پیشکش پر نوبیل کمیٹی کا مؤقف
ایران میں مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ کی ’ صبر و تحمل ‘ کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ’’زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل‘‘ کا مظاہرہ کریں، اور مظاہرین کے خلاف ’’غیر ضروری یا غیر متناسب‘‘ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔ اتوار کو جاری بیان میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا، ’’سیکریٹری جنرل ایران کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کی جانب سے تشدد اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی رپورٹس پر شدید صدمے کا شکار ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ‘‘ غطریس نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ایرانیوں کو بغیر خوف کے پرامن طور پر اپنی ’’شکایات‘‘کے اظہار کا حق حاصل ہونا چاہئے، اور یہ کہ اظہارِ رائے، اجتماع اور پرامن مظاہروں کی آزادی کے حقوق، جو بین الاقوامی قانون میں درج ہیں، کو’’مکمل طور پر تسلیم اور محفوظ‘‘ کیا جانا چا ہئے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے ملک میں معلومات تک رسائی ممکن بنانے کے اقدامات، بشمول مواصلات کی بحالی، کا بھی مطالبہ کیا۔