• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوبیل انعام نہ شیئر کیاجا سکتا ہے نہ منتقل کیا جا سکتا ہے: ماشاڈو کی پیشکش پر نوبیل کمیٹی کا مؤقف

Updated: January 11, 2026, 8:03 PM IST | Oslo

وینزویلا کی حزب اختلاف کی لیڈر ماشاڈو کی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ نوبیل انعام شیئر کرنے کی پیشکش کے بعد ناروے کی نوبیل انعام کمیٹی نے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوبیل انعام نہ شیئر کیاجا سکتا ہے نہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

Venezuelan opposition figure María Corina Machado.  Photo: INN
وینزویلا کی حزب اختلاف کی لیڈر ماریہ کورینا ماشا ڈو۔ تصویر: آئی این این

ناروے کی نوبیل انعام کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امن کا نوبیل انعام کسی کو دیے جانے کے بعد نہ تو شیئر کیا جا سکتا ہے، نہ واپس لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ وضاحت اُس کے چند دن بعد آئی ہے جب نوبیل انعام یافتہ اور وینزویلاکی حزب اختلاف لی لیڈر ماریہ کوریناماشاڈو نے کہا تھا کہ وہ اپنا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔ نوبل کمیٹی کے بیان میں کہا گیا، ’’نوبیل انعام نہ تو واپس لیا جا سکتا ہے، نہ شیئر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار اعلان ہو جانے کے بعد، فیصلہ ہمیشہ کے لیے برقرار رہتا ہے۔‘‘ دریں اثناء نوبل انسٹی ٹیوٹ نے مزید وضاحت کی کہ نوبل انعام یافتہ انعامی رقم کسی کے ساتھ بھی بانٹ سکتے ہیں، لیکن نوبیل امن انعام کو کسی دوسرے شخص کو منتقل یا شیئر نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: نیو یارک احتجاج میں حماس کے حق میں نعروں پر ظہران ممدانی کی مذمت

بعد ازاں کمیٹی نے مزید کہا، ’’اصولی طور پر، ناروے کی نوبیل کمیٹی اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی کہ امن انعام یافتگان انعام ملنے کے بعد کیا کہتے یا کرتے ہیں،‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ تاہم یہ کمیٹی کو انعام یافتگان کی مستقبل کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے سے نہیں روکتا، خواہ وہ اپنی تشویش یا تعریف کا اظہار نہ بھی کریں۔‘‘ واضح رہے کہ دنیا میں کئی جنگوں کو روکنے کی اپنی کوششوں اور وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی مدت میں ان کے ذریعے طے پانے والے ’’ابراہیم معاہدوں‘‘ کی بنیاد پرٹرمپ نے متعدد مواقع پر خود کو نوبیل امن انعام کا سب سے مناسب امیدوار قرار دیا تھا۔ امریکی صدر، جو خود کو امن کا صدرکہتے ہیں، نے اس معزز انعام کے حصول کے لیے بڑی کوششیں کیں، خود کو تعصب کا شکار قرار دیا،اور کئی ممالک کے سربراہان کی جانب سے متعدد نامزدگیاں حاصل کیں۔اس کے علاوہ اسپورٹس باڈی  فیفااور اسرائیل جیسے ممالک نے ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی گہری خواہش پوری کرنے کے لیے ایک نیا امن انعام قائم کیا۔ تاہم، ان کی کوششیں بے نتیجہ رہیں کیونکہ لگتا ہے کہ نوبیل کمیٹی انہیں انعام کے لیےنامناسب خیال کر رہی۔

یہ بھی پڑھئے: اگر ہم نے نہیں کیا تو روس یا چین، گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

بعد ازاں سنیچر کو امریکی صدر نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے ماریہ کورینا ماشاڈو کے امریکہ دورے کے دوران ان کی طرف سے نوبیل امن انعام دینے کی پیشکش پر بات کریں گے۔ ماشاڈو کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی فوج کے ایک خفیہ آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور ٹرمپ کے ملک کے وسیع تیل کے ذخائر پر کنٹرول کے دعوؤں کے بعد امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں،۔ یہ بھی یاد رہے کہ ماریہ کورینا ماشاڈو کو۲۰۲۵ء میں وینزویلا میں جمہوری حقوق اور پرامن منتقلی کی کوششوں پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK