• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کو ہر سہولت کی فراہمی جسمانی سرگرمیاں، خودمختاری متاثر کر رہی ہے: فزیوتھیراپسٹ

Updated: October 28, 2026, 11:04 AM IST | Washington

بچوں کو ہر کام میں سہولت فراہم کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو حد سے زیادہ منظم کرنے کا رجحان ان کی جسمانی نشوونما اور خودمختاری پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، سیڑھیاں چڑھنے، ناہموار سطحوں پر چلنے اور آزادانہ کھیلنے جیسے معمولی تجربات بچوں کی حرکتی، تخلیقی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بچوں کے جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور خودمختاری کے فقدان پر ایک ماہرِ اطفال فزیوتھیراپسٹ نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین روزمرہ زندگی میں بچوں کے لیے ہر کام تیزی سے آسان بناتے جارہے ہیں۔ لفٹ کے ذریعے منزلوں تک پہنچنے سے لے کر انتہائی منظم اور سہولتوں سے بھرپور ماحول میں پرورش پانے تک، بچوں کو قدرتی طور پر جسمانی صلاحیتیں، تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی مہارتیں سیکھنے کے مواقع کم مل رہے ہیں۔ ’دی کیوریئس پیرنٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے فزیوتھیراپسٹ اُشما گورادیا نے بچوں کی جسمانی سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جدید طرزِ زندگی بچوں کو ان بنیادی جسمانی حرکات سے دور کررہا ہے جو پہلے روزمرہ زندگی کا معمول ہوا کرتی تھیں۔ اُشما نے کہا، ’’بچے پیدل چل کر ادھر اُدھر نہیں جاتے، بلکہ لفٹ استعمال کرتے ہیں۔ وہ سیڑھیاں نہیں چڑھتے۔ میرے پاس ایسے بچے آئے ہیں جنہیں سیڑھیاں چڑھنا ہی نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ وہ بلند و بالا عمارتوں میں رہتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: این سی یونگ سے مسلسل ۱۱؍ویں شکست، پی وی سندھو فرانسیسی اوپن کی رنر اَپ رہیں

ایک یا دو منزلیں سیڑھیوں سے چڑھیں، پھر لفٹ استعمال کریں

ماہر نے مشورہ دیا کہ بلند عمارتوں میں رہنے والے والدین معمولی تبدیلیوں کے ذریعے بھی بچوں کو سیڑھیاں چڑھنے کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں والدین سے کہتی ہوں کہ اگر آپ کسی بلند عمارت میں رہتے ہیں تو ایک یا دو منزلیں سیڑھیوں سے چڑھیں اور اس کے بعد لفٹ استعمال کرلیں۔ واپسی پر لفٹ سے دوسری یا پہلی منزل پر اتریں اور باقی راستہ سیڑھیوں سے طے کریں۔‘‘ اُشما نے زور دیا کہ مسئلہ صرف سیڑھیاں چڑھنے تک محدود نہیں ہے۔ جدید گھروں اور شہری ماحول میں بچوں کو عموماً ہموار اور یکساں سطحیں میسر آتی ہیں، جس کے باعث انہیں مختلف نوعیت کی زمین اور سطحوں پر چلنے کا تجربہ نہیں ہوپاتا۔ انہوں نے کہا، ’’بچے سنگِ مرمر کے ہموار فرش پر چلتے ہیں۔ فرش بالکل سیدھا ہوتا ہے۔ انہیں ایسی برآمدگاہیں نہیں ملتیں جہاں وہ اوپر چڑھ سکیں یا ایسی سیڑھیاں نہیں ملتیں جن سے نیچے اترنے کی مشق کرسکیں۔‘‘

بچوں کے لیے ناہموار سطحوں پر کھیلنا کیوں ضروری ہے؟

فزیوتھیراپسٹ نے وضاحت کی کہ بچوں کے لیے ناہموار سطحوں اور اردگرد موجود مختلف اشیا سے تعامل کرنا مفید ہے، کیونکہ اس سے ان کے بڑے اور چھوٹے عضلات کو کام کرنے اور نشوونما پانے کا موقع ملتا ہے۔ اُشما نے کہا، ’’بنیادی بات یہ ہے کہ بچوں کے بڑے اور چھوٹے عضلات کی نشوونما کے لیے ناہموار سطحوں کا تجربہ ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بچوں کو صرف باقاعدہ سرگرمیوں اور کھلونوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے اردگرد موجود چیزوں سے بھی کھیلنے کے مواقع دینے چاہئیں۔ ان کے مطابق، ’’بچوں کو ماحول میں موجود پتھر، اینٹیں، لکڑی کی چھڑیاں اور دوسری چیزیں تلاش کرنی چاہئیں۔ پھر انہیں استعمال کرتے ہوئے تخلیقی انداز میں پہاڑ یا گھر جیسی چیزیں بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: باسل ٹینس ٹورنامنٹ: جوکووچ اور شیلٹن ایک ہی ڈرا میں، واورِنکا کا مقابلہ لیہیکا سے

اس طرح کی سرگرمیوں میں بچوں کو اپنے جسمانی اعضا استعمال کرنے کے ساتھ سوچنے اور تخیل سے کام لینے کا موقع بھی ملتا ہے۔ ماہر نے مزید کہا، ’’انہیں جسمانی محنت کرنی چاہیے۔ انہیں اپنی جسمانی توانائی صرف کرنی چاہیے اور تخیل و تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لانا چاہیے۔‘‘ اُشما کے مطابق آج کل بچوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہورہی ہے جہاں ان کی سرگرمیوں پر بہت زیادہ نگرانی کی جاتی ہے اور ان کے تجربات کو پہلے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے مشاہدے میں بچوں کا ماحول ضرورت سے زیادہ منظم اور ان کے لیے پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔ بچے ایک محفوظ دائرے میں رہ رہے ہیں، جہاں انہیں خود سے چیزیں آزمانے اور سیکھنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔‘‘

’جاما پیڈیاٹرکس‘ میں ۲۰۱۹ء کی تحقیق

بنگلورو کے آسٹر آر وی اسپتال کی چیف فزیوتھیراپسٹ پالک ڈینگلا نے بھی بچوں میں جسمانی سرگرمیوں کی کمی پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی نسل نہیں دیکھی جسے اتنی زیادہ سہولتیں میسر ہوں، لیکن جسمانی حرکت اتنی کم ہو۔ پالک نے وضاحت کی کہ بچوں کی بڑی حرکات سے متعلق مہارتیں، مثلاً رینگنا، چلنا، دوڑنا، چھلانگ لگانا، چڑھنا، توازن قائم رکھنا اور چیزیں پھینکنا، صرف عمر بڑھنے سے خودبخود پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ انہیں بار بار مشق کرنے اور مختلف تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سیڑھیوں کا ایک اضافی زینہ چڑھنا یا کسی ناہموار سطح سے گزرنا بھی دماغ اور عضلات کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا سکھاتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: رونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟

پالک کے مطابق، اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے سے صورتِ حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ’جاما پیڈیاٹرکس‘ میں ۲۰۱۹ء میں شائع ہونے والی ایک بڑی تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں ۲؍ ہزار ۴۰۰؍ سے زائد بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ان کے مطابق، تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دو اور تین سال کی عمر میں اسکرین کے زیادہ استعمال کا تعلق بعد میں بچوں کی نشوونما جانچنے والے ٹیسٹوں میں نسبتاً کم اسکور سے تھا۔ ان ٹیسٹوں میں ابلاغی صلاحیت، ہاتھوں اور انگلیوں کی باریک حرکات، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور سماجی مہارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ پالک نے کہا کہ بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے انہیں روزمرہ زندگی میں چلنے پھرنے، چڑھنے، توازن قائم کرنے، کھیلنے اور اپنے ماحول کو تخلیقی انداز میں دریافت کرنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK