Inquilab Logo Happiest Places to Work

قنطاس ایرویز کی سڈنی تا لندن ۱۹؍ گھنٹوں کی نان اسٹاپ پرواز

Updated: July 26, 2026, 6:00 PM IST | London

قنطاس ایرویز نے سڈنی تا لندن ۱۹؍ گھنٹوں کی نان اسٹاپ پرواز کرکے ایک معرکہ سر کرلیا، بنا کسی مسافر کے یہ تجرباتی پرواز ۱۹؍ گھنٹے طویل تھی، جو مستقبل کے منصوبوں کا ایک حصہ تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

قنطاس ایرویز کی ایئربس A350-1000ULR نے  سڈنی تا لندن ۱۹؍ گھنٹوں کی نان اسٹاپ پرواز کی، کیبن میں ایئربس کے ٹیسٹ پائلٹ اور فلائٹ ٹیسٹ انجینئرز موجود تھے۔ یہ ایک مشکل پرواز تھی جس میں ائیر بس نے ۱۷۰۰۰؍ کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا، جبکہ یہ پرواز ۱۹؍ گھنٹے طویل تھی۔ جب طیارہ نان اسٹاپ سفر طے کرکے میلبورن میں اترا، تو اس نے قنطاس  کے دیرینہ پروجیکٹ سن رائز کے لیے ایک بڑا سنگ میل عبور کیا۔یہ اس طیارے کے لیے سرٹیفیکیشن پرواز تھی جسے قنطاس مستقبل میں سڈنی-لندن کی نان اسٹاپ خدمت کے لیے استعمال کر نے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس سفر نے جلد ہی ہوابازی کی صنعت سے باہر بھی توجہ حاصل کر لی۔ جب یہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کے اوپر سے گزرا، تو یہ طیارہ مختصر وقت کے لیے فلائٹ راڈار پر سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پرواز بن گیا، جہاں ہزاروں افراد اس کی پیشرفت کو براہِ راست دیکھ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران مذاکرات کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے: ٹرمپ؛ کویت، بحرین نےایران پر خفیہ حملے کئےتھے: رپورٹ

فی الحال یہ طیارہ اب بھی ایئربس کی ملکیت ہے۔یہ ایک ڈیولپمنٹ طیارہ ہے، جسے چار ایئربس ٹیسٹ پائلٹ اڑا رہے ہیں اور پانچ فلائٹ ٹیسٹ انجینئرز معاونت کر رہے ہیں، یہ سب مینوفیکچرر کے سرٹیفیکیشن پروگرام کا حصہ ہیں۔ زیادہ توجہ اس چیز پر ہے جسے مسافر کبھی نہیں دیکھیں گے: ایک اضافی ۲۰؍ ہزار لیٹر کا پچھلا مرکزی فیول ٹینک، جو A350-1000ULR کو اتنی رینج دیتا ہے کہ یہ ۲۲؍ گھنٹے تک ہوا میں رہ سکتا ہے۔ ایئرلائن کو توقع ہے کہ اسے اپنا پہلا پروجیکٹ سن رائز طیارہ، ویگا‘‘، اگلے سال اپریل میں ملے گا۔ ساتھ ہی ٹکٹوں کی فروخت فروری۲۰۲۷ء کے لیے منصوبہ بند ہے، جبکہ اکتوبر میں سڈنی-لندن کی روزانہ نان اسٹاپ پروازیں شروع ہوں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: دفتر میں غزہ کے بچے کی ڈرائنگ ہے تاکہ ان بچوں کی تکلیف نہ بھولوں: پیڈرو سانچیز

یاد رہے کہ اس مخصوص پرواز کیلئے طیارے کے اندرونی حصے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں، کمپنی کا خیال تھا کہ اگر لوگ تقریباً ۲۰؍ گھنٹے ہوا میں گزارنے والے ہیں، تو طیارے کا احساس مختلف ہونا چاہیے۔ جس کے تحت ہر A350-1000ULR میں چار کیبن میں صرف۲۳۸؍ مسافر سوار ہوں گےجو اسی سائز کے زیادہ تر طیاروں سے کہیں کم ہیں۔ ہلکا بوجھ اضافی ایندھن کی اجازت دیتا ہے اور مسافروں کو زیادہ ذاتی جگہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ  ایک مخصوص ’’ویلنس زون‘‘ مسافروں کو پرواز کے دوران کھڑے ہونے، چلنے پھرنے اور حرکت کرنے دیتا ہے، جو انتہائی طویل فاصلے کے سفر پر تھکاوٹ، نیند اور جیٹ لیگ پر برسوں کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔یہ تحقیق اس طیارے کے فیکٹری سے نکلنے سے برسوں قبل شروع ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی اور امریکہ کے جوہری معاہدے پرامریکی اراکین کانگریس کو خدشات

۲۰۱۹ء میں،قنطاس نے نیویارک اور لندن سے سڈنی تک تجرباتی بوئنگ ۷۸۷؍ پروازیں چلائیں۔ حالانکہ ان مشن کا مرکز یہ ثابت کرنا کم تھا کہ یہ راستے ممکن ہیں، اور زیادہ یہ سمجھنا تھا کہ تقریباً ۲۰؍گھنٹے ہوا میں رہنے کا پائلٹوں اور مسافروں پر کیا اثر ہوتا ہے۔ محققین نے نیند کے پیٹرن، چوکسی، کھانے کا وقت، حرکت، اور کیبن کی روشنی کی نگرانی کی، اور ان نتائج نے بعد میں نئے A350 بیڑے کے ڈیزائن میں تبدیلی کی۔ جبکہ ریگولیٹرز نے طیارے کے اضافی فیول ٹینک میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا، جس سے ترسیل میں ایک سال سے زیادہ کی تاخیر ہوئی۔ ایئربس نے فلائٹ ٹیسٹ دوبارہ شروع کرنے سے پہلے نظام کو دوبارہ ڈیزائن کیا۔پروجیکٹ سن رائز روایتی ’’کینگارو روٹ‘‘ کو راتوں رات تبدیل نہیں کرے گا۔ قنطاس اپنی پرتھ-لندن نان اسٹاپ سروس جاری رکھے گا، ساتھ ہی اس چیز کو شامل کرے گا جو کئی دہائیوں تک پہنچ سے باہر رہی: سڈنی اور لندن کے درمیان براہِ راست رابطہ۔
مسافروں کے لیے، یہ تبدیلی بظاہر بہت آسان لگتی ہے۔ ایک پرواز۔ کوئی ٹرانزٹ ہوائی اڈہ نہیں۔ کوئی کنکشن پکڑنے کی دوڑ نہیں۔انجینئراور پائلٹوں کے لیے جنہوں نے اس ہفتے آدھی دنیا کو پار کرتے ہوئے۱۹؍ گھنٹے گزارے، یہ اس کومعمول بنانے کی جانب ایک اور قدم تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK