اولڈ ایج انتظامیہ نے جب دھمکایا کہ وہ آخری رسومات تو ادا کردینگے لیکن پولیس کو مطلع کریں گے تو پھر سنگدل بیٹا لاش لے گیا اور انتم سنسکار کیا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 1:01 PM IST | Inquilab News Network | Aurangabad
اولڈ ایج انتظامیہ نے جب دھمکایا کہ وہ آخری رسومات تو ادا کردینگے لیکن پولیس کو مطلع کریں گے تو پھر سنگدل بیٹا لاش لے گیا اور انتم سنسکار کیا۔
یہاں بوڑھے والد کے ساتھ ناروا سلوک اور پھر اس کی موت کے بعد آخری رسومات بھی ادا نہ کرنے کا ایک افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔ سام ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہاں اولڈ ایج ہوم میں ۸۰؍ سالہ شخص کی موت ہوگئی۔ جب اس کے بیٹے کو اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے اولڈایج ہوم انتظامیہ کو وقت نہ ہونے کا جواز دیا اور آخری رسومات ادا کرنے سے معذرت کرلی۔ تاہم اولڈ ایج ہوم انتظامیہ کی جانب سے انتم سنسکار کا تہیہ کئے جانے اور اس قدر بے رخی کی شکایت پولیس سے کئے جانے کی بات کہی گئی تو پھر وہ بیٹاسٹپٹاگیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی پھر وہ لاش اپنے گھر لے گیا اور آخری رسومات ادا کیں۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی مہم کا برا حال
سام ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کچھ دن پہلے ریلوے اسٹیشن کے علاقے میں یہ۸۰؍ سالہ معمر شخص انتہائی تشویش ناک حالت میں ملے تھے۔ وہ نیم فالج کا شکار تھے اور طبیعت نازک تھی۔ انہیں علاج کے لئے گھاٹی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ طبیعت بہتر ہونے پر انہیں اولڈ ایج ہوم بھیج دیا گیا۔بعد ازیں اولڈ ایج ہوم کی انچارج اوما دُوپےنے اس معمر شخص کے خاندان کا پتہ لگایا اور ان کے بیٹے اور بہو کو تلاش کر لیا۔ تاہم خاندان نے یہ کہتے ہوئے والد کو اولڈ ایج ہوم میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا کہ ’’چھوٹے بیٹے کی شادی کرنی ہے، اس لیے گھر چھوٹا پڑ جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تبادلے کی قیاس آرائی پر تکارام منڈے کا بیان: یہ میرے ہاتھ میں نہیں
کیا ہوا تھا؟
اولڈ ایج ہوم میں رہنے والے معمر شخص کا گزشتہ دنوں انتقال ہونے کے بعد خاندان کو اطلاع دی گئی، لیکن موت کی خبر سننے کے بعد بھی سنگدل بیٹے کے پاس اپنے آنجہانی والد کےلئے وقت نہیں تھا۔اس نے کہا کہ ’’میرے پاس ٹائم نہیں ہے، آپ لوگ ہی انتم سنسکار نمٹادیجئے۔‘‘ آخرکار اولڈ ایج ہوم انتظامیہ نے آگے بڑھ کر اوما دوپے کی آخری رسومات کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اس سے پہلے انہوں نے بیٹے کو بتایا کہ وہ اس معاملے میں پولیس سے شکایت کریں گی۔ جس کے بعد بیٹے نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور والد کی لاش گھر لے جا کر آخری رسومات ادا کیں۔اس معاملے کے عام ہونے پر عوامی حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔