• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاست میں بارش کی شدید کمی، مراٹھواڑہ اور ودربھ میں خشک سالی کا خطرہ

Updated: September 22, 2026, 12:55 PM IST | ZA Khan | Aurangabad

یکم جون سے۲۰؍ ستمبر تک ریاست میں اوسط سے۱۷؍ فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ مراٹھواڑہ کے۹۲۹؍ آبی منصوبوں میں صرف۵۶ء۱۹؍ فیصد قابلِ استعمال پانی باقی بچاہے۔

Farmers informing Rohit Pawar about crop damage in Talni village. Photo: INN
تلنی گاؤں میں روہت پوار کو کسان فصلوں کے نقصان کی معلومات دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
اورنگ آباد (زیڈ اے خان): ریاست میں امسال موسم باراں میں کم بارش ریکارڈ کی گئی ۔ محکمۂ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق یکم جون سے ۲۰؍ ستمبر کے دوران ریاست میں اوسط کے مقابلے میں۱۷؍ فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران ریاست میں ۶ء۹۳۹؍ ملی میٹر بارش متوقع تھی، تاہم صرف ۷۷۸ء۶؍ملی میٹر بارش ہوئی۔ شولاپور میں سب سے زیادہ۵۷ء۵۹؍ فیصد بارش کی کمی درج کی گئی ہے، جبکہ مراٹھواڑہ اور ودربھ میں بھی صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
اب کسانوں اور انتظامیہ کی آخری امید واپسی کے مانسون سے وابستہ ہے کہ شاید بارش کی یہ کمی پوری ہوسکے۔مراٹھواڑہ اور مغربی ودربھ میں بارش نہ ہونے کے باعث کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ آبپاشی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کے مسئلے نے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ اورنگ آباد میں اب تک متوقع بارش کے مقابلے میں صرف۹ء۵۲۱؍ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم اتوار کو مراٹھواڑا کے عمرگہ، دیونی، اَوسا، کلمب، پرانڈا، عثمان آباد (دھاراشیو)، ہنگولی اور بیڑ میں بعض مقامات پر ہلکی بارش ہوئی۔بارش کی کمی کے باعث خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور اب ربیع کے سیزن پر بھی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
 
 
ایسی صورتِ حال میں ریاستی حکومت کو فوری طور پر خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات اور متاثرین کیلئے امدادی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ انتظامیہ کو صرف پینے کے پانی کی فراہمی کا انتظام ہی نہیں بلکہ مویشیوں کے لیے چارہ اور مویشی کیمپوں کے انتظام کا مسئلہ بھی حل کرنا ہوگا۔ فی الحال ریاست میں وزیرِ زراعت کی جانب سے جاری جائزہ اجلاسوں کے نتائج پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔محکمۂ موسمیات کے مطابق خلیجِ بنگال میں کم دباؤ کا علاقہ بننے کے باعث جنوبی ساحلی علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اسی طرح واپسی کا مانسون راجستھان سے گجرات کی جانب بڑھنے کے باعث اتوار کو مراٹھواڑہ اور ودربھ کے بیشتر علاقوں میں بارش کا آغاز ہوا۔ محکمۂ موسمیات نے ریاست کے بیشتر علاقوں کیلئے ۲۵؍ ستمبر تک یلو الرٹ جاری کیا ہے۔اگلے دو سے تین دنوں کے دوران راجستھان کے ساتھ پنجاب اور کچھ سے مانسون کی واپسی کیلئے موسمی حالات سازگار رہنے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں ستمبر کے دوران ریاست میں بارش کی سرگرمی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

محکمۂ آبی وسائل کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اسکے مطابق ریاست کے تمام ڈیموں میں مجموعی طور پر۶۳ء۷۶؍ فیصد قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ کو یہ ذخیرہ۶۶ء۸۷؍ فیصد تھا۔ رواں سال بارش کی کمی کا سب سے زیادہ اثر مراٹھواڑاپر پڑا ہے، جہاں۹۲۹؍ آبی منصوبوں میں صرف۵۶ء۱۹؍ فیصد قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔جن اضلاع میں بارش کی صورتحال پر خاص نظر رکھی جارہی ہے، ان میں رتناگیری، سندھو درگ، ناسک، احمد نگر، پونے، کولہاپور، ستارا، سانگلی، شولاپور، پربھنی، ہنگولی، ناندیڑ، لاتور، چندرپور، بھنڈارا، گڑھ چرولی، گوندیا، ناگپور اور یوتمل شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK