• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت

Updated: October 01, 2026, 2:06 PM IST | Agency | New York

تہران اور واشنگٹن اپنے اپنے مطالبات پر قائم، مختلف معاملوں پر اختلاف برقرار، تنازع دوبارہ فوجی کارروائی میں بدلنے کا خدشہ۔ دوحہ، واشنگٹن اور تہران دونوں کے رویے سےمایوس۔

US President Donald Trump is not prepared to grant concessions to Iran. Photo: AP/PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کو رعایت دینے کیلئے تیار نہیں۔ تصویر: اےپی/ پی ٹی آئی

 امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کے لئے قطری ثالثوں کی کوششوں میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ مذاکرات سے واقف تین افراد نے’ ایکسیوس‘ کو یہ اطلاع دی۔ مذاکرات میں تعطل نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ تنازع دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔قطری حکام کی ثالثی جاری رکھنے کی توقع ہے لیکن دو ذرائع نے بتایا کہ دوحہ، واشنگٹن اور تہران دونوں کے رویے سےمایوس ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا حکومت پر طیارہ واقعے پر سستی سیاست کا الزام

قطری ثالث علی الثوادی نے پیر کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کے ساتھ کئی گھنٹے مذاکرات کئے۔مذاکرات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز بھی شامل تھی جس کا مقصد ایران کے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتوں کے اصرار کے درمیان راستہ نکالنا تھا۔پیر ہی کو الثوادی نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام سے ملاقات کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے ایک حصے میں شریک ہوئے۔ وہائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ہفتے کے آغاز میں امریکی حکام نے بالواسطہ مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر لچک دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر غور کرنے کو تیار ہیں لیکن بعد میں ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے’ ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ایک ذریعے کے مطابق پیر کے مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل نواز روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی سےملاقات پر شہباز شریف پر شدید تنقید، صارفین نے’یہودی ایجنٹ‘ کہا

ذرائع نے کہا، ’’معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ ایرانی ایسے مطالبات کر رہے ہیں جنہیں امریکہ قبول نہیں کرسکتا، جبکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اس لئے سمجھوتے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

پاکستان اور مصر سمیت علاقائی ثالثوں نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر رعایتیں قبول کرے۔اسی دوران مذاکرات سے واقف ایک اور ذریعے کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر اسی وقت غور کرے گا جب واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر واپس آنے پر رضامند ہو۔ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ تہران پہلے ہی واشنگٹن کو اپنی شرائط سے آگاہ کرچکا ہے۔ایرانی میڈیا نے ان کے حوالے سے کہا، ’’ٹرمپ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘‘اسی روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن انہیں یقین نہیں کہ تہران ابھی رعایت دینے کے لئے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK