• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ونتارا کے نایاب جانور قانونی طور پر حاصل کئے گئے تھے؟ برطانوی وزراء کو ’رابطہ‘ نہ کرنے کی ہدایت

Updated: November 04, 2026, 10:08 PM IST | London

برطانوی حکام نے وزراء کو اننت امبانی کے زیرِ انتظام چڑیا گھر کے ساتھ رسمی معاملات نہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ برطانیہ جنگلی حیات کی خطرے سے دوچار انواع کی بین الاقوامی تجارت کے معاہدے (CITES) کی قائمہ کمیٹی کی صدارت کر رہا ہے۔ یہ کمیٹی ۲ سے ۶ نومبر تک جنیوا میں اجلاس کر رہی ہے اور ہندوستان کی جنگلی حیات کی درآمدات سمیت تعمیل کے مقدمات کا جائزہ لے گی۔ چیئرمین کی حیثیت سے برطانیہ سے غیر جانبدار رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

عالمی سطح پر مختلف ادارے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امبانی خاندان کی ملکیت ونتارا چڑیاگھر کیلئے جانور قانونی طور پر حاصل کئے گئے تھے۔ اس دوران، برطانوی حکام نے وزراء کو اننت امبانی کے زیرِ انتظام چڑیا گھر کے ساتھ رسمی معاملات نہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ مشورہ برطانیہ کی حکومت کی اندرونی دستاویزات میں سامنے آیا ہے جو ’مونگابے‘ (Mongabay) اور ’دی گارڈین‘ نے حقِ معلومات ایکٹ کے تحت حاصل کی ہیں۔ 

برطانیہ کے محکمہ ماحولیات، خوراک اور دیہی امور (DEFRA) نے ”شہرت سے متعلق حساسیت“ اور ”ضابطوں کی تعمیل سے متعلق جاری کارروائیوں“ کا حوالہ دیا ہے۔ ایک اہلکار نے ۱۴ جولائی کو لکھا کہ وزراء کو ”اس مرحلے پر“ ونتارا کے ساتھ باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ برطانیہ جنگلی حیات کی خطرے سے دوچار انواع کی بین الاقوامی تجارت کے معاہدے (CITES) کی قائمہ کمیٹی کی صدارت کر رہا ہے۔ یہ کمیٹی ۲ سے ۶ نومبر تک جنیوا میں اجلاس کر رہی ہے اور ہندوستان کی جنگلی حیات کی درآمدات سمیت تعمیل کے مقدمات کا جائزہ لے گی۔ چیئرمین کی حیثیت سے برطانیہ سے غیر جانبدار رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے اپنے پورے کئے گئے ۱۲۷ وعدوں کی فہرست جاری کی، ہند-پاک جنگ بندی اور ہند تجارتی معاہدے کا دعوی

اس مشورے سے ایک دن قبل، ونتارا کی نمائندگی کرنے والی لندن کی فرم ’اٹلس اسٹریٹجی‘ نے اس وقت کی ماحولیات کی وزیر ایما رینالڈز کو ای میل بھیجی۔ اس میں وزارتی ملاقات کی درخواست کی گئی اور جام نگر میں واقع چڑیا گھر میں حکام کی میزبانی کی پیشکش کی گئی۔ اٹلس نے اپنے کام کو شہرت کا انتظام اور تعلقاتِ عامہ (PR) قرار دیا۔ امریکہ میں قائم ایک اور لابنگ فرم، ’چیک میٹ‘ نے مئی میں ڈیفرا (DEFRA) کے حکام سے ملاقات کی۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی حیثیت کی جانچ بنیادی طور پر برآمد کنندہ ممالک کا کام ہے۔ ڈیفرا نے جواب دیا کہ درآمد کنندہ اور برآمد کنندہ دونوں ممالک کو پوری احتیاط اور جانچ پڑتال (due diligence) پر عمل کرنا چاہئے۔ ونتارا کا کہنا ہے کہ اس نے ”کسی لابنگ فرم کی خدمات حاصل نہیں کیں اور نہ ہی کسی کو ادائیگی کی ہے۔“ اٹلس اس وقت تک بطور لابیئسٹ رجسٹرڈ نہیں تھی جب تک کہ مونگابے نے اس سے رابطہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: لندن: ۲۸؍سالہ سفر مکمل، مہم جو کارل بشبی کی گھر واپسی، اہل خانہ سے جذباتی ملاقات

واضح رہے کہ برطانیہ نے اکتوبر ۲۰۲۳ء سے ستمبر ۲۰۲۶ء کے درمیان ونتارا کو زندہ جانور بھیجنے کیلئے ۱۵۲ پرمٹ جاری کئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر سائٹس (CITES) کے ضمیمہ I (Appendix I) کی انواع پر مشتمل تھے، جنہیں سب سے زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ ان جانوروں میں شیر، گبن اور لیمر شامل ہیں۔ دستاویزات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اصل میں کتنے جانور بھیجے گئے۔ کم از کم ۴۴ پرمٹ غیر استعمال شدہ واپس کر دیئے گئے اور ۱۹ کو استعمال شدہ کے طور پر نشان زد کیا گیا۔ حکام نے باز (falcons) درآمد کرنے کی ۲۷ درخواستوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ باز برآمد کرنے والے کو تقریباً ۵۰ ہزار پاؤنڈ کے عطیے کی وجہ سے حکام نے ان منتقلیوں کو زولوجیکل کے بجائے تجارتی نوعیت کا سمجھا۔ ونتارا کا کہنا ہے کہ کوئی باز منتقل نہیں کیا گیا۔ ونتارا کسی بھی غلط کام کی تردید کرتا ہے اور ہندوستانی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اسی طرح کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ اگست میں، ونتارا نے کہا تھا کہ وہ جون ۲۰۲۷ء تک جانوروں کی درآمدات روک دے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK