• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۰؍ روزہ ٹیلی کام رچارج قوانین کا راگھو چڈھا نے خیرمقدم کیا

Updated: September 27, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

پری پیڈ موبائل صارفین کے لیے ۳۰؍ روزہ رِچارج پلان اور صرف وائس و ایس ایم ایس پر مبنی پیک دستیاب کرانے کے نئے ضوابط کا راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے خیرمقدم کیا ہے۔

Raghav Chadda.Photo:INN
راگھو چڈھا۔ تصویر:آئی این این

پری پیڈ موبائل صارفین کے لیے ۳۰؍ روزہ رِچارج پلان اور صرف وائس و ایس ایم ایس پر مبنی پیک دستیاب کرانے کے نئے ضوابط کا راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا  نے خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ضوابط سے صارفین کو رچارج کے حوالے سے زیادہ انتخاب اور لچک ملے گی، خصوصاً ان لوگوں کو جو موبائل ڈیٹا کا استعمال کم یا بالکل نہیں کرتے۔
یہ تبدیلیاں  ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا(ٹرائی) کی جانب سے جاری کردہ Telecom Consumers Protection (13th Amendment) Regulations, 2026  کے تحت کی گئی ہیں۔ ٹرائی نے یہ ترمیم ۲۲؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو جاری کی تھی۔ نئے ضوابط کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو صارفین کے لیے کم از کم ایک ایسا پلان دستیاب کرانا ہوگا جس کی میعاد ۳۰؍ دن ہو۔ اس کے علاوہ ایسا پلان بھی ہونا چاہیے جو ہر ماہ اسی تاریخ کو دوبارہ قابلِ تجدید ہو؛ اگر کسی مہینے میں وہ تاریخ موجود نہ ہو تو متعلقہ مہینے کی آخری تاریخ کو تجدید کی جائے گی۔  ٹرائی  کے مطابق ہر سروس پرووائیڈر کو ایسے پلان اور اس کی معلومات صارفین کے لیے دستیاب کرانی ہوں گی۔ 
اس تبدیلی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ۲۸؍ روزہ رچارج سائیکل برقرار رہنے کی صورت میں مسلسل سروس رکھنے والے صارف کو ایک سال میں ۱۳؍ مرتبہ رچارج کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ۳۰؍ روزہ پلان کے تحت یہ تعداد ۱۲؍ رچارج سالانہ  ہو سکتی ہے۔ راگھو چڈھا نے اسی مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:سچن سیواچ باہر، پروین ہڈا اور انکش نے تمغے پکے کیے

نئے فریم ورک میں  Voice and SMS-only plans  کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایسے صارفین کو متبادل فراہم کرنا ہے جنہیں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ فون کا بنیادی طور پر کالنگ اور ایس ایم ایس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ٹرائی کے نئے ضوابط کے مطابق وائس اور ایس ایم ایس پر مبنی Special Tariff Vouchers (STVs)  میں ۳۰؍ دن یا اس سے کم مدت والے آپشن شامل کیے جائیں گے۔ اگر کسی بنڈل پلان کے لیے کم مدت کا آپشن موجود ہے تو اسی مدت کے لیے وائس اور ایس ایم ایس والا متبادل بھی مناسب کم ٹیرف کے ساتھ فراہم کرنا ہوگا۔ 
راگھو چڈھا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے  ۱۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو پارلیمنٹ میں پری پیڈ رچارج پلان کی مدت اور محدود انتخاب کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ ان کے مطابق کئی صارفین نے ۲۸؍ روزہ رچارج سائیکل اور ڈیٹا کے بغیر سستے وائس پلان دستیاب نہ ہونے سے متعلق خدشات ان کے ساتھ شیئر کیے تھے۔  چڈھا نے نئے ضوابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایسے صارفین کو زیادہ موزوں آپشن مل سکتے ہیں جو بنیادی طور پر وائس کالز استعمال کرتے ہیں اور جن کا بجٹ محدود ہے۔ انہوں نے خاص طور پر لو بجٹ کنزیومرس اور ڈیٹا کی ضرورت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے ان تبدیلیوں کو اہم قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:کافی ود کرن سیزن ۹؍: عالیہ بھٹ کے ساتھ پہلی بار شاہین بھٹ بھی نظر آئیں گی

نئے ضوابط کا بنیادی مقصد پری پیڈ صارفین کو رِچارج کے حوالے سے زیادہ انتخاب فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت صارف اپنی ضرورت کے مطابق ۳۰؍روزہ پلان، وائس و ایس ایم ایس اونلی  پلان یا دیگر دستیاب ٹیرف آپشنز  میں سے انتخاب کر سکے گا۔ ٹرائی کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں مختلف مدت اور استعمال کے حساب سے متعدد ٹیرف پلان پیش کر سکتی ہیں، تاہم انہیں شفافیت اور غیر امتیازی اصولوں کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ ریگولیٹر نے سروس پرووائیڈرز کو اپنے دستیاب پلان ویب سائٹس، ایپس، کسٹمر کیئر مراکز اور دیگر ذرائع سے صارفین کے سامنے واضح کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK