ساگر کوچ ابھیان کا بنیادی مقصد سمندری راستوں سے ممکنہ حملوں، دراندازی اور غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 4:27 PM IST | Siraj Sheikh | Raigad
ساگر کوچ ابھیان کا بنیادی مقصد سمندری راستوں سے ممکنہ حملوں، دراندازی اور غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
انڈین کوسٹ گارڈ (آئی سی جی) اور دیگر سیکوریٹی ایجنسیوں نے ۳۰؍ ستمبر سے یکم اکتوبر۲۰۲۶ء تک مہاراشٹر اور گوا کی ساحلی پٹیوں پر مشترکہ ساحلی حفاظتی مشق ’ساگر کَوَچ-۲۶۔۰۲‘کامیابی کیساتھ انجام دی۔اس موقع پر علی باغ کے مانڈوا ساحل پرریاست کے چیف سیکریٹری راجیش اگروال نے انڈین کوسٹ گارڈ کی طرف سے منعقد کی گئی ساگر کوچ مشق کے دوران ساحلی سیکوریٹی کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔اس ضمن میں ملنے والی تفصیلات کے مطابق رائے گڑھ ضلع کے ساحلی علاقوں میں بدھ اور جمعرات کو انڈین کوسٹ گارڈ اور ضلع کے دیگر حفاظتی اداروں کی جانب سے ساگر کوچ ابھیان چلایا گیا۔جس کے تحت مختلف شہروں کے مصروف ترین اور اہم چوراہوں پر ناکہ بندی کی گئی اور سواریوں کی تلاشی لی گئی۔علی باغ،مانڈوا کاشید، مروڈ جنجیرہ، دیگھی شری وردھن اور ہری ہریشور کے ساحلوں پر کشتیوں کی بھی تلاشی لی گئی اور ماہی گیروں کی بائیومیٹرک کی تصدیق کی گئی۔اس موقع پر فضائی گشت بھی بڑھا دیا گیا تھا۔یعنی ان دو دنوں میں رائے گڑھ ضلع کی تمام سیکوریٹی ایجنسیاں الرٹ موڈ پر رہی۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ۳؍ دن تک موبائل ٹھیک نہیں ہوا توگاہک تلوار لیکر دکان پر پہنچا
اس موقع پر مہاراشٹر کے چیف سیکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ رائے گڑھ کا ساحلی علاقہ ممبئی سے متصل ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس ہے۔ یہ ساگر کوچ ابھیان کوسٹ گارڈ اور رائے گڑھ پولیس اور دیگر حفاظتی اداروں کے درمیان آپسی تال میل کو بہتر بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ساحلی سیکوریٹی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے چلایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ساحلی حفاظتی نظام کی تیاریوں کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔اس ضمن میں مروڈ جنجیرہ کوسٹ گارڈ کے کمانڈنٹ ابھیشیک کرونا کر نے بتایا کہ اس وسیع ابھیان میں صرف کوسٹ گارڈ اور رائے گڑھ پولیس ہی نہیں، بلکہ نیوی، کسٹمز، سی آئی ایس ایف، محکمہ ماہی گیری اور مقامی مچھیرے بھی شامل ہوتے ہیں۔انڈین کوسٹ گارڈ کی نگرانی میں منعقد ہونے والی یہ مشقیں سال میں دو مرتبہ کی جاتی ہیں۔