ہزاروں سال پہلے بحیرہ روم میں تجارتی سامان لیجانے والا ایک بحری جہاز اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی غرق ہو گیا تھا۔ اس کا سامان سمندر کی تہہ میں محفوظ رہا، جس نے قدیم دور کی عظیم سمندری طاقتوں کے عروج سے بہت پہلے کی تجارتی دنیا کے شواہد کو اپنے اندر سموئے رکھا۔
ترکی کے بحیرہ روم میں غوطہ خور مذکورہ جہاز کا ملبہ تلاش کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ہزاروں سال پہلے بحیرہ روم میں تجارتی سامان لیجانے والا ایک بحری جہاز اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی غرق ہو گیا تھا۔ اس کا سامان سمندر کی تہہ میں محفوظ رہا، جس نے قدیم دور کی عظیم سمندری طاقتوں کے عروج سے بہت پہلے کی تجارتی دنیا کے شواہد کو اپنے اندر سموئے رکھا۔ اب، ترکی کے بحیرہ روم کے ساحل پر اس ملبے کی تحقیقات کرنے والے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا ماننا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین معلوم بحری جہاز کا ملبہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً۴۷۰۰؍ سال پرانا ہے۔ یہ دریافت بین الاقوامی سمندری تجارت کے آغاز کی ایک نایاب جھلک پیش کر سکتی ہے۔
اس دریافت کے پیچھے بحیرہ روم کی آثارِ قدیمہ اسوسی ایشن کی مہم کی قیادت کرنے والے،میڈیٹیر نئین یونیورسٹی کے پروفیسر خاقان اونیج ہیں۔ اونیج کہتے ہیں،’’یہ ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیونکہ یہ ہمیں لیونٹ (شام، لبنان، فلسطین کا خطہ) اور بحیرہ روم کے دیگر حصوں کے درمیان سمندری تجارت کا براہ راست ثبوت فراہم کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا
انطالیہ میں کیکووا جزیرہ کے قریب ملنے والے اس ملبے نے قدیم تہذیبوں اور ان کے باہمی روابط کا مطالعہ کرنے والے مؤرخین میں جوش پیدا کر دیا ہے۔ یہ دریافت ان تجارتی تعلقات اور سامان کی نقل و حرکت کے بارے میں سراغ فراہم کر سکتی ہے جنہوں نے اس دور کی ساحلی بستیوں کو آپس میں جوڑا تھا جب مصر میں’عظیم اہرام‘ تعمیر کیا جا رہا تھا۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اونیج اس دریافت کے سربراہ ہیں۔ تقدیر کے دھارے نے انہیں بچپن میں ہی اس راستے پر ڈال دیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جب ٹیم کو تقریباً چار سال پہلے پہلی بار یہ ملبہ ملا، تو سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے مٹی کے برتن کسی بہت بعد کے دور کے معلوم ہوتے تھے۔ ہم نے ابتدا میں سوچا کہ یہ شاید عثمانی دور کا کوئی حالیہ بحری جہاز ہو سکتا ہے۔