Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارکونسل کا اراکین کا احترام حاصل نہ کرنا،اس پیشے کیلئےبری علامت: جج سپریم کورٹ

Updated: August 30, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ کی جج نے ایک بیان میں کہا کہ بار کونسل جو اپنے اراکین کا احترام حاصل نہ کرسکے،قانونی پیشے کیلئے اچھی علامت نہیں، ساتھ ہی کونسلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کے تحفظ میں اپنے کردار کا جائزہ لیں۔

Supreme Court judge Justice B V Nagarathna. Photo: INN
سپریم کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگ رتن۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ کی جج جسٹس بی وی ناگ رتن نے سنیچر کو کہا کہ ایک بار کونسل جو اپنے اراکین کا احترام حاصل نہیں کرتی، وہ قانونی پیشے کے لیے ’’اچھی علامت نہیں‘‘ ہے اور انہوں نے بارکونسلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کے تحفظ میں اپنے کردار کا جائزہ لیں۔نیشنل لا یونیورسٹی دہلی کی۱۳؍ویں دعوتِ تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ناگ رتن نے کہا، ’’بار کونسلیں، چاہے مرکزی ہوں یا ریاستی، انہیں پیشہ ورانہ اخلاقیات، ضابطۂ اخلاق اور پیشہ ورانہ قابلیت کے تحفظ میں اپنے کردار اور اہمیت پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ جب کوئی بیرو کونسل اپنے اراکین کا احترام حاصل نہیں کر پاتی، تو یہ قانونی پیشے کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔‘‘ واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن کمار مشرا سے ان کے۱۳؍ اگست کے اس حکم نامے پر مستعفی ہونے کے مطالبات اٹھ رہے ہیں جس میں ریاستی بارکونسلوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ۲۰۲۶ء کے نالسر بیچ کے طلبہ کا اندراج نہ کریں۔ مشرا نے یہ کہتے ہوئے کہ،’’ بی سی آئی نے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے بعد کارروائی بند کر دی ہے کہ طلبہ کا کسی بھی احتجاج یا تحریک میں کوئی کردار نہیں تھا‘‘چند گھنٹے بعد یہ سرکلر واپس لے لیا تھا ۔

یہ بھی پڑھئے: ’ججوں کی تقرری میں۱۲؍برسوں سے بے جا سرکاری مداخلت ہو رہی ہے‘

 اس سے قبل، بی سی آئی کے شریک چیئرمین اور سینئر ایڈووکیٹ وائی آر سداسیواا ریڈی نے مشرا کو ایک خط لکھ کر ان سے استعفی دینے کی درخواست کی تھی۔نیشنل لا یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ناگ رتن نے زیر التوا مقدمات، تاخیر اور مقدمات کے اخراجات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بار کو مقدمہ بازی کرنے والوں کی خدمت، جمہوریت کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے میں اپنے کردار پر ازسرنو غور کرنا چاہیے اور بار کو انصاف کی فراہمی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ’’یکجا ہو کر ایک آواز میں بولنا چاہیے۔‘‘ 
بعد ازاں سپریم کورٹ کی جج نے کہا کہ وکلاء کو ایک ایسی جگہ محفوظ رکھنی چاہیے جہاں وہ بغیر کسی بیرونی مداخلت کے مشورہ، بحث اور نمائندگی کر سکیں، کیونکہ وہ ’’جمہوریتوں کے سیفٹی والوز‘‘ ہیں۔جسٹس ناگ رتن نے کہا، ’’بار کی آزادی وکلاء کو ان کے اپنے فائدے کے لیے دیا گیا کوئی استحقاق نہیں ہے، بلکہ یہ اس لیے ہے کہ آئینی جمہوریت کو پیشہ ور افراد کے ایک ایسے طبقے کی ضرورت ہوتی ہے جو ریاست، مارکیٹ یا حتیٰ کہ اپنے مؤکل سے اجازت لیے بغیر مشورہ، بحث، چیلنج اور نمائندگی کر سکے، ایک کامیاب کیریئر کے حصول کو اپنے پیشے کو قابلِ تحفظ بنانے والی اصل وجہ کو بھلانے کا سبب نہ بننے دیں۔ اس کی آزادی کی حفاظت کریں۔

یہ بھی پڑھئے: شدھی کرن معاملے میں راہل کا ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

مزید برآں قانون کو’’ اعتماد کا عہدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جسٹس ناگ رتن نے کہا کہ’’ ایک وکیل کو محض قانونی علم کو گھنٹے کے حساب سے بیچنے والے شخص تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘‘جسٹس ناگ رتن نے کہا، ’’بار کی کوئی بھی کوتاہی یا غلطیاں ہماری سیاسی اور معاشرتی زندگی پر گہرا اثر ڈالیں گی۔ اسی لیے معاشرے میں ان کی اہمیت ہے۔ میں عاجزی کے ساتھ بار کے ہر رکن کو یاد دلاتی ہوں کہ وہ اپنی ذہنیت تبدیل کریں اور اپنے مؤکلوں کے لیے عوامی خدمت کے طور پر کام کرتے رہیں، ورنہ وہ آنے والے مستقبل میں اپنی مطابقت کھو بیٹھیں گے۔‘‘متبادل تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے کردار پر جسٹس ناگ رتن نے کہا کہ ثالثی، مصالحت اور مفاہمت اب انصاف کے نظام کا حصہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا جو صرف قانونی تنازع کو دیکھتے ہیں وہ تکنیکی طور پر بہترین تو ہو سکتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ طور پر محدود ہیں۔ لیکن جو وکیل تنازع کے پیچھے موجود اصل مسئلے کو دیکھتا ہے، وہ ناگزیر بننا شروع کر دیتا ہے۔‘‘ 
علاوہ ازیں اے آئی ٹولز پر انحصار کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس ناگ رتن نے کہا، ’’قانون سیکھیں لیکن تنازع کے مکمل اور جامع نظریے اور اس کی زندگی میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو سمجھنا بھی سیکھیں۔ عدالت میں دلائل دیتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ اے آئی کے ذریعے حاصل کردہ جعلی فیصلے پیش نہ کیے جائیں۔ ہیلوسینیشن (فریب) کا شکار نہ ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK