Updated: August 26, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود گریجویٹس کیلئے روزگار ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، اور تعلیم و ملازمت کے درمیان واضح خلا نظر آ رہا ہے۔ نیتی آیّوگ کی تازہ رپورٹ نے اس صورتحال کی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے تعلیم کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا ہے۔
اسکول اور اعلیٰ تعلیم، دونوں سطحوں پر عملی تربیت، عملی منصوبوں اور صنعت سے وابستہ تجربے کا کافی فقدان ہے۔تصویر: آئی این این
نیتی آیّوگ کی حالیہ رپورٹ ’’ری امیجننگ اسکلنگ فار وِکسِت بھارت۲۰۴۷ء‘‘ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہندوستان میں گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح قومی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ \۱۸؍اگست کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق صرف۸ء۲۵؍ فیصد گریجویٹس ایسی ملازمتوں میں کام کر رہے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت سے مطابقت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں ۸ء۲۵؍فیصد کا یہ اعداد و شمار اقتصادی سروے۲۰۲۴ء۔ ۲۵ءکے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعلیم یافتہ افراد میں بے روزگاری کی شرح بھی بلند ہے۔ تمام گریجویٹس میں ۱۳؍فیصد جبکہ خواتین گریجویٹس میں ۲۰ء۴؍فیصد بے روزگار ہیں، جو قومی بے روزگاری کی شرح ۳ء۲؍فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی کے باغی اراکین کو سپریم کورٹ کا نوٹس
ڈگریاں ملازمت میں کیوں تبدیل نہیں ہو رہیں؟
لیبر مارکیٹ سے متعلق معلومات کا فقدان: رپورٹ کے مطابق طلبہ اور ان کے والدین کو روزگار کی منڈی سے متعلق مناسب معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں کا نصاب بھی صنعت کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکا ہے۔
پلیسمنٹ سے منسلک پروگرام مہنگے ہیں: اعلیٰ سطح کے یا ملازمت سے براہِ راست منسلک پروگرام، جو مستحکم اور اچھی تنخواہ والی ملازمتوں تک رسائی کا ذریعہ بنتے ہیں، اکثر اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ ضرورت مند طلبہ کی پہنچ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ بی اے، بی کام اور بی ایس سی جیسی عمومی ڈگریاں اکثر براہِ راست روزگار فراہم نہیں کرتیں۔ یہاں تک کہ ابتدائی سطح کی ملازمتوں کیلئے بھی ٹَیلی (Tally) یا مائیکروسافٹ آفس جیسی ورک پلیس ریڈی نیس سرٹیفیکیشنز کی ضرورت پڑتی ہے۔
عملی تربیت کا فقدان: رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسکول اور اعلیٰ تعلیم، دونوں سطحوں پر عملی تربیت، عملی منصوبوں اور صنعت سے وابستہ تجربے کا کافی فقدان ہے۔ نتیجتاً روزگار حاصل کرنے کی بنیادی صلاحیتیں اور کاروباری مہارتیں منظم انداز میں پیدا نہیں ہو پاتیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ساؤجی ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی، لائسنس معطل
سرکاری ملازمتیں اب بھی بڑی ترجیح: رپورٹ کے مطابق انڈر گریجویٹ پروگراموں میں ۳ء۴؍کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن میں سے ۱ء۱۳؍ کروڑ صرف بی اے میں ہیں۔ بی اے، بی ایس سی اور بی کام میں مجموعی داخلہ۲؍ کروڑ سے زیادہ ہے۔ بہت سے طلبہ ان ڈگریوں کا انتخاب بنیادی طور پر اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ سرکاری ملازمتوں کیلئےاہل رہیں۔ نومبر۲۰۲۴ءسے جولائی۲۰۲۵ءکے درمیان صرف۵۵؍ ہزار عہدوں کیلئےایک کروڑ ۸۶؍ لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔
نیتی آیّوگ کی مجوزہ تجاویز
(۱) خصوصی اور ملازمت سے منسلک پروگرام
اسکولوں اور کالجوں کو عمومی ڈگریوں کے بجائے خصوصی اور روزگار سے منسلک پروگراموں کی طرف بڑھنا چاہئے، خاص طور پر بی اے، بی ایس سی اور بی کام جیسی زیادہ داخلہ رکھنے والی ڈگریوں میں۔ مثال کے طور پر بی اے ہاسپیٹیلٹی، بی کام اینالیٹکس اور بی ایس سی اپلائیڈ ٹیکنالوجی جیسے عملی شعبے متعارف کرائے جائیں جو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: رام مندر چندہ چوری کی رپورٹنگ کا معاملہ: صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو عبوری تحفظ
(۲) کام اور تعلیم کو یکجا کرنا
کام کے ساتھ عملی تربیت پر مبنی ڈگری پروگرامز اور اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرامز (AEDP) کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے۔
(۳) تعلیم کے لچکدار طریقے
تعلیمی نظام میں ماڈیولر، پارٹ ٹائم، ہائبرڈ اور ’’سیکھیں اور کمائیں ‘‘ جیسے لچکدار طریقوں کو فروغ دیا جائے، تاکہ طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کام بھی کر سکیں۔
(۴) مہارتوں کی منتقلی اور ریکارڈنگ
تعلیم کو زیادہ لچکدار اور قابلِ منتقلی بنانے کیلئے نیشنل کریڈٹ فریم ورک اور ڈجیٹل اسکلز پاسپورٹ نافذ کیا جائے، تاکہ مختلف تعلیمی راستوں سے حاصل کی گئی مہارتوں کو ریکارڈ اور تسلیم کیا جا سکے۔ نیتی آیّوگ کے مطابق ان اصلاحات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے مختلف طریقوں سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔