کم عمرلڑکیوں کےساتھ راجستھان اورمغربی بنگال میںجنسی حیوانیت کے خلاف رضا اکیڈمی کی جانب سے جمعرات کو رضااکیڈمی کے دفتر ہی میں احتجاج کرتے ہوئے زانیوں کوپھانسی دینے اور سخت قانون بنانے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا۔
رضا اکیڈمی کے دفتر میں احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
کم عمرلڑکیوں کےساتھ راجستھان اورمغربی بنگال میںجنسی حیوانیت کے خلاف رضا اکیڈمی کی جانب سے جمعرات کو رضااکیڈمی کے دفتر ہی میں احتجاج کرتے ہوئے زانیوں کوپھانسی دینے اور سخت قانون بنانے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا۔ احتجاج کرتے ہوئے علماء پلے کارڈ اٹھائےہوئے تھے جس پرخاطیوں کوسزائے موت دینے کامطالبہ کیا گیا تھا ۔رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے راجستھان اور مغربی بنگال میں زنا بالجبر کے دل دہلا دینے اور شرمسار کرنے والے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ’’ ایسے درندہ صفت مجرموں کو فوری طور پر پھانسی کی سزا دی جائے اور اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لئے سخت قوانین بنائے جائیں۔‘‘
انہو ںنے رضا اکیڈمی کے دفتر میں منعقدہ علماء کی ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ’’ اسلامی قانون میں ایسے سنگین جرائم کے مرتکبین کے لئے عبرتناک سزائیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ معاشرے میں امن و امان برقرار رہے اور کوئی شخص اس قسم کے گھناؤنے جرم کی ہمت نہ کرسکے۔‘‘
میٹنگ میںشریک مولانا اعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ’’جرم کو دیکھا جانا چاہئےنہ کہ مجرم کی حیثیت اور اثر و رسوخ ۔ اگر بااثر افراد کو قانون سے بچایا جائے گا تو جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہوں گے اور معاشرے میں بدامنی میں اضافہ ہوگا۔‘‘میٹنگ اور احتجاج میںمولانا محمد عباس رضوی، محمد عارف رضوی ، مولانا امان اللہ رضا ، مولانا خلیل الرحمن نوری، مولانا محمد عارف ، مولانا قمر رضا اشرفی، برکات احمد اشرفی، محمد ناظم خان اور دیگر علماء موجود تھے۔