آربی آئی نے وضاحت کی ہے کہ بینک قرض کی عدم ادائیگی پر فون مکمل طور پر بلاک یا غیر فعال نہیں کر سکتے، یہ قواعد صرف ان قرضوں پر عائد ہوںگے جو خاص طور پر موبائل فون خریدنے کیلئے گئے ہوں۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 1:03 PM IST | New Delhi
آربی آئی نے وضاحت کی ہے کہ بینک قرض کی عدم ادائیگی پر فون مکمل طور پر بلاک یا غیر فعال نہیں کر سکتے، یہ قواعد صرف ان قرضوں پر عائد ہوںگے جو خاص طور پر موبائل فون خریدنے کیلئے گئے ہوں۔
مرکزی بینک (آر بی آئی) نے واضح کیا ہے کہ بینک قرض کی واپسی نہ ہونے کی صورت میں موبائل فون کو مکمل طور پر بلاک یا غیر فعال نہیں کر سکتے۔۲۰؍ مئی کو جاری کردہ مسودہ ترمیمی ہدایات کے تحت، بینکنگ ریگولیٹر نے کہا کہ اگر قسط ادا نہ ہو تو بینک فون کی بعض فعالیتوں (functionalities) کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں، لیکن فون کو مکمل طور پر بند کرنا یا بلاک کرنا ممنوع ہے۔ تاہم یہ قواعد صرف ان قرضوں پر عائد ہوں گے جو خاص طور پر موبائل فون خریدنے کیلئےلئے گئے ہوں، کسی دوسرے قسم کے قرض پر نہیں۔
یہ بھی پـڑھئے: ’’ملک میں اقتصادی طوفان آرہا ہے جس کا نقصان صرف عوام کو ہوگا‘‘
واضح رہے کہ ہوم کریڈٹ فائنانس کے۲۰۲۴ء کے ایک مطالعے کے مطابق، ہندوستان میں قرض پر فون خریدنا ایک رجحان بن چکا ہے۔ فی الحال فون ملک بھر میں لوگوں کے لیے مواصلات، کام اور تعلیم کا لازمی ذریعہ ہیں۔ا س سے قبل ۲۰۲۴ءمیں آر بی آئی نے بینکوں کو ڈیفالٹ کرنے والوں کے فون لاک کرنے سے روک دیا تھا۔ نئی ہدایات کے تحت بینک قرض دیتے وقت صارف سے واضح رضامندی لیں گے اور فون میں موجود ذاتی ڈیٹا تک رسائی نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے حکم پر نظرثانی سے انکار
ذہن نشین رہے کہ بینک ایسے افراد جنہوں نے بینک کے قرض کے ذریعے فون خریدا ہے، اور وہ قسط ادا کرنے سے قاصر ہے، تو قرض کی واپسی کیلئے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے بینک اس شخص کا فون مکمل طور پر غیر فعال کردیا کرتے تھے، تاہم حالیہ وقت میں جب فون روزمرہ زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے، اور یہ انسان کی بنیادی ضرورتوں میں شمار ہونے لگا ہے، تو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آربی آئی کی یہ ہدایت صارفین کیلئے کچھ راحت کا سبب ہوگی۔