Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا بنرجی کی پارٹی کے باغیوں میں بغاوت

Updated: August 07, 2026, 11:03 AM IST | New Delhi

۲۰؍ باغی اراکین پارلیمنٹ میں سے ۳؍ مسلم اراکین پارلیمنٹ نے این ڈی اے کی حمایت سے انکار کردیا۔

Mamata Banerjee. Photo: INN
ممتا بنرجی۔ تصویر: آائی این این

ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی سے ۲۰؍ اراکین پارلیمنٹ کی بغاوت کا معاملہ الجھ گیا ہے کیوں کہ ان میں سے ۳؍ نے مزید بغاوت کردی ہے جس کی وجہ سے ان سبھی کی رکنیت خطرے میں پڑسکتی ہے۔یاد رہے کہ ان تمام ۲۰؍ اراکین پارلیمنٹ نے نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا جوائن کر لی تھی۔ ان میں وہ تین مسلم اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے جو کبھی ممتا بنرجی کے بے حد قریبی مانے جاتے تھے۔ اب کرکٹر یوسف پٹھان، ابو طاہر اور خلیل الرحمٰن نے این سی پی آئی کے اندر ہی بغاوت کر دی ہے۔ انہوں نے این ڈی اے کے ساتھ جانے کی پارٹی کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ ان کی اس مخالفت سے باغیوں کو منظوری ملنے کا پورا معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے این سی پی آئی میں ٹی ایم سی کے باغیوں کے انضمام کو ابھی تک باضابطہ طور پر منظوری نہیں دی ہے۔ یعنی ایوان میں وہ ابھی تک ایک الگ سیاسی جماعت نہیں ہیں۔ یہ تمام کام لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو کرنا ہے لیکن اسپیکر نے ان باغی اراکین پارلیمنٹ کے لیے ایوان میں بیٹھنے کا الگ انتظام کر دیا ہے۔اسی دوران یہ نیا پیچ سامنے آیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: قرض لینے میں یو پی، بہار اور ایم پی آگے

حالانکہ گزشتہ دنوں اسپیکر نے شیو سینا میں ادھو گروپ کے۶؍ اراکین پارلیمنٹ کے انضمام کو منظوری دے دی تھی لیکن ٹی ایم سی کے ان باغیوں کو منظوری نہیں ملی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین دسویں شیڈول کے تحت دو تہائی اراکین پارلیمنٹ کے الگ ہونے کو ایوان میں تسلیم کئے جانے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہے ہیں کیوں کہ ممتا بنرجی کے گروپ نے باغی اراکین پارلیمنٹ کے این سی پی آئی  میں انضمام کی کوشش کے خلاف قانونی جنگ چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ان کی پارٹی اب بھی متحد ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی گروپ ایوان میں اپنی الگ شناخت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے اسپیکر ابھی تک ان باغی اراکین کی حیثیت کے بارے میں کوئی قانونی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے

  موجودہ صورتحال میں ٹی ایم سی کے ان باغی اراکین پارلیمنٹ کو قانونی اور آئینی طور پر این سی پی آئی کا رکن نہیں مانا گیا ہے۔ تاہم عملی طور پر حکومت انہیں الگ مان رہی ہے۔نیوز ۱۸؍ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ایم سی کے پاس کل ۲۸؍ اراکین پارلیمنٹ تھے۔ لوک سبھا میں بغاوت کے لئے کم از کم ۲۰؍ اراکین پارلیمنٹ کی ضرورت تھی۔ باغیوں نے یہ تعداد تو پوری کر لی تھی لیکن اب ان میں سے تین کی مزید بغاوت نے ۱۷؍ باغیوں کیلئے دل بدل والا قانون نافذ ہونے کا راستہ پیدا کردیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تینوں مسلم اراکین پارلیمنٹ کی بغاوت کے بعد کیا ۲۰؍ اراکین والا باغی گروپ خود اقلیت میں آ گیا ہے؟ ایسی صورت میں ٹی ایم سی سے بغاوت کے باعث کیا ان کی رکنیت ختم ہو جائے گی؟یا پھر اگر این سی پی آئی کو ایک پارٹی مانا جاتا ہے، تو اس کے اندر نئی بغاوت کے لئے پھر دو تہائی اراکین درکار ہوں گے۔ ایسے میں یہ معاملہ اب بہت زیادہ الجھتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK