Inquilab Logo Happiest Places to Work

کارگل میں نئی شراب پالیسی کے خلاف مذہبی تنظیم کا سخت ردعمل، احتجاج کی وارننگ

Updated: June 08, 2026, 8:06 PM IST | Ladakh

لداخ کے ضلع کارگل کی بااثر مذہبی تنظیم جمعیت علماء اثنا عشرہ (جے یو آئی اے کے) نے یونین ٹیریٹری لداخ کی نئی ایکسائز پالیسی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر کارگل میں شراب کی فروخت اور کھلے عام استعمال کی اجازت برقرار رکھی گئی تو وہ عوامی سطح پر پرامن اور جمہوری احتجاج شروع کرے گی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

لداخ کے ضلع کارگل کی معروف مذہبی تنظیم جمعیت علماء اثنا عشرہ (جے یو آئی اے کے) نے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی نئی ایکسائز پالیسی کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دار کیا ہے کہ اگر پالیسی واپس نہ لی گئی تو تنظیم عوام کے ساتھ مل کر پرامن احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے جنرل سیکریٹری شیخ ابراہیم خلیلی اور سیاسی امور کے انچارج سجاد کارگلی نے کہا کہ کارگل میں شراب کی فروخت اور کھلے عام استعمال کی اجازت دینا مقامی معاشرتی اقدار اور ثقافتی روایات کے منافی ہے۔ لیڈروں نے کہا کہ ’’اگر کارگل میں شراب کی فروخت اور کھلے عام استعمال کی اجازت دی گئی تو ہم عوام کے ساتھ مل کر جمہوری اور پرامن احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یوپی پولیس کی وفاداری آئین کے بجائے اقتدار کے ساتھ ہے: الہ آباد ہائی کورٹ

تنظیم کے مطابق شراب نوشی نہ صرف نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے اور خاندانی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ جے یو آئی اے کے لیڈروں نے زور دیا کہ لداخ کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ تنظیم نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ سے ملاقات کرے گی اور ایک باضابطہ یادداشت پیش کرتے ہوئے نئی ایکسائز پالیسی واپس لینے اور خطے میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ جے یو آئی اے کے نے مذہبی لیڈروں، سماجی کارکنوں اور کمیونٹی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ عوام میں شراب اور دیگر نشہ آور اشیا کے مضر اثرات کے حوالے سے شعور بیدار کریں تاکہ نوجوان نسل کو ان خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لداخ انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی اور نسبتاً آزاد ایکسائز پالیسی پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب غیر ملکی شراب اور انڈین میڈ فارن لیکور سمیت سخت الکحلک مشروبات کی خوردہ فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔ پالیسی کے مطابق یونین ٹیریٹری میں شراب کے لائسنس یافتہ فروشوں کی تعداد بھی دو سے بڑھا کر ۲۰؍ کر دی جائے گی۔ اس سے قبل صرف بیئر، وائن اور ریڈی ٹو ڈرنک مشروبات کی محدود فروخت کی اجازت تھی، جبکہ اب سخت شراب بھی باقاعدہ دکانوں کے ذریعے فروخت کی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس بی آئی نے مرکزی حکومت کو۸۸۱۳؍ کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ دیا

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد سیاحت کے فروغ، مقامی معیشت کی بہتری اور سرکاری آمدنی میں اضافہ ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے سماجی اور ثقافتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پیش رفت حالیہ عرصے میں شراب سے متعلق پالیسیوں میں آنے والی وسیع تر تبدیلیوں کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ حال ہی میں لکش ودیپ میں بھی مرکزی حکومت نے ۱۹۷۹ء سے نافذ سخت پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے نئی ایکسائز پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت لائسنس یافتہ شراب کی تیاری، فروخت اور استعمال کی اجازت دی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK