Updated: November 03, 2026, 10:02 PM IST
| New York
ارب پتی سرمایہ کار وارن بفٹ کی پانی کے بجائے چیری کوک پینے کی عادت ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ بل ایکمین نے ایک عشائیے کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ اسٹل اور اسپارکلنگ پانی، دونوں کی پیشکش مسترد کرنے پر بفٹ نے کہا تھا کہ انہوں نے ۴۸؍ سال سے پانی نہیں پیا۔ یہ دعویٰ ایک پرانی نجی گفتگو کی یادداشت پر مبنی ہے، تاہم کوکا کولا سے ان کی کئی دہائیوں پرانی محبت پہلے ہی مشہور ہے۔
وارن بفٹ۔ تصویر: آئی این این
دنیا کے معروف سرمایہ کاروں میں شمار ہونے والے وارن بفٹ کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی، کاروباری فیصلوں اور طرزِ زندگی پر اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے، لیکن اس مرتبہ توجہ ان کی ایک غیر معمولی ذاتی عادت نے حاصل کی ہے۔ امریکی ارب پتی سرمایہ کار اور ہیج فنڈ منیجر بل ایکمین نے ’ایکویٹی میٹس انویسٹنگ‘ (Equity Mates Investing) پوڈکاسٹ میں ایک واقعہ سناتے ہوئے انکشاف کیا کہ بفٹ نے ایک عشائیے کے دوران پانی پینے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ۴۸؍ برس سے پانی نہیں پیا۔ یہ گفتگو ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو نشر ہونے والے پوڈکاسٹ میں سامنے آئی، جس کے بعد یہ قصہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر دوبارہ موضوعِ بحث بن گیا۔ بل ایکمین کے مطابق، وارن بفٹ کئی سال قبل ان کے گھر عشائیے پر آئے تھے۔ ایکمین کو معلوم تھا کہ بفٹ کو چیری کوک (Cherry Coke) پسند ہے، اس لیے انہوں نے پہلے سے اس مشروب کا انتظام کررکھا تھا۔ کھانے کے دوران انہوں نے مہمان سے پوچھا کہ وہ سادہ پانی (Still Water) پسند کریں گے یا گیس ملا چمکتا ہوا پانی (Sparkling Water)؟ بفٹ نے دونوں پیشکشیں مسترد کردیں اور اپنی پسند کا مشروب طلب کیا۔ اس پر ایکمین نے حیرت سے پوچھا کہ کیا وہ پانی بالکل نہیں پیتے؟ ایکمین کے مطابق بفٹ نے جواب دیا، ’’بل، میں نے ۴۸؍ سال سے پانی نہیں پیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری؛ امریکہ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے: ٹکر کارلسن کا دعویٰ
تاہم اس دعوے کو ایک ذاتی گفتگو کی یادداشت کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔ ایکمین نے یہ نہیں بتایا کہ یہ عشائیہ کس سال ہوا تھا، نہ ہی انہوں نے اس بات کی تفصیل دی کہ بفٹ روزانہ کتنی مقدار میں پانی پر مشتمل دیگر مشروبات استعمال کرتے ہیں۔ خود وارن بفٹ نے بھی اس مخصوص دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ اس لیے ۴۸؍ سال تک سادہ پانی نہ پینے کے بیان کو ان کی ثابت شدہ طبی یا غذائی عادت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہاں بات سادہ پانی سے گریز کی ہے، تمام اقسام کے سیال مادوں سے نہیں۔ بفٹ کی چیری کوک سے محبت البتہ کوئی نئی بات نہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے کوکا کولا کے شوقین رہے ہیں اور اپنے مشروبات کے انتخاب کے حوالے سے متعدد مرتبہ کھل کر بات کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی پہلی پسند چیری کوک بھی نہیں تھی۔ ۱۹۸۶ء میں انہوں نے برکشائر ہیتھ وے (Berkshire Hathaway) کے سالانہ اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ وہ ۴۸؍ سال تک پیپسی کے ساتھ وفاداری کے بعد اب چیری کوک کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے چیری کوک کو کمپنی کے سالانہ اجلاس کا سرکاری مشروب بھی قرار دیا تھا۔ ان کی اس پسند کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً پانچ کین کوکا کولا پینے کا ذکر کرچکے ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں ’فارچون‘ میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مذاقاً کہا تھا کہ وہ ’’ایک چوتھائی کوکا کولا‘‘ ہیں، کیونکہ ان کے اندازے کے مطابق روزانہ حاصل ہونے والی ۲۷۰۰؍کیلوریز میں سے تقریباً ایک چوتھائی حصہ اس مشروب سے آتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں بھی انہوں نے سی این بی سی کو بتایا تھا کہ وہ روزانہ تقریباً پانچ ۱۲؍ اونس کے کین کوکا کولا پیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:برطانیہ: نومبر کا ’اسلاموفوبیا آگاہی مہینہ‘، ’خاموش تماشائی نہ بنیں‘ کا پیغام
بفٹ کی خوراک کے بارے میں بھی ان کی پسند روایتی صحت بخش غذا سے خاصی مختلف رہی ہے۔ وہ میکڈونالڈز کے ناشتے، برگر، فرائز، ہاٹ ڈاگز، پاپ کارن، مٹھائیوں اور آئس کریم کے شوقین سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی خوراک میں ڈیری کوئین (Dairy Queen) کی آئس کریم اور سیئز کینڈی (See’s Candies) کی مٹھائیاں بھی شامل رہی ہیں۔ یہ دونوں برانڈز برکشائر ہیتھ وے کے کاروباری مفادات سے وابستہ ہیں۔ ان کے بیٹے ہاورڈ کے ایک دوست نے ماضی میں بتایا تھا کہ بچپن میں بفٹ کو پیپسی پینے کی وجہ سے ’پیپسی وارن‘ بھی کہا جاتا تھا۔ چیری کوک سے ان کی وابستگی کا ایک دلچسپ پہلو ان کی سرمایہ کاری بھی ہے۔ برکشائر ہیتھ وے نے ۱۹۸۸ء میں کوکا کولا کے حصص خریدنا شروع کیے اور اگلے چند برسوں میں کمپنی میں تقریباً ۹؍ فیصد حصص کی ملکیت حاصل کرلی۔ اس سرمایہ کاری کی ابتدائی لاگت تقریباً ۳ء۱؍ ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس طرح بفٹ کی پسند کا مشروب صرف ان کی ذاتی زندگی کا حصہ نہیں رہا بلکہ ان کی سرمایہ کاری کی تاریخ میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ بفٹ کی خوراک اور مشروبات کے انتخاب پر ماضی میں بھی سوال اٹھتے رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ ان کی عادات عام صحت سے متعلق مشوروں سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم ان کی ذاتی پسند کو کسی دوسرے شخص کے لیے صحت مند طرزِ زندگی کا نمونہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ پانی جسم کے معمول کے افعال اور ہائیڈریشن کے لیے ضروری ہے، جب کہ میٹھے مشروبات میں موجود شکر اور کیلوریز کے اپنے اثرات ہوتے ہیں۔ ایکمین کے بیان نے ایک بار پھر بفٹ کی غیر معمولی عادات کو خبروں میں جگہ ضرور دی ہے، لیکن ان کی کامیابی کا اصل راز ان کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی ہے، نہ کہ چیری کوک پینے کا معمول۔