Updated: November 02, 2026, 9:59 PM IST
| London
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کے بڑھتے واقعات کے درمیان نومبر ۲۰۲۶ء کو ’اسلاموفوبیا آگاہی مہینے‘ کے طور پر منایا جارہا ہے۔ اس سال کی مہم کا عنوان Don’t Let It Slide یعنی ’’تعصب کو نظرانداز نہ کریں‘‘ رکھا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا صرف کسی مسلمان کے ساتھ ہونے والا براہِ راست سلوک نہیں، بلکہ اس وقت بھی پھیلتا ہے جب معاشرہ نفرت انگیز جملوں، ہراسانی، دھمکیوں اور امتیازی رویوں کو معمولی سمجھ کر خاموش رہتا ہے۔
اسلاموفوبیا۔ تصویر: آئی این این
اسلاموفوبیا آگاہی مہینے (Islamophobia Awareness Month) کا آغاز ۲۰۱۲ء میں مسلم تنظیموں کے ایک گروپ نے کیا تھا۔ اس کا افتتاح نومبر ۲۰۱۲ء میں لندن مسلم سینٹر میں منعقدہ تقریب کے ذریعے ہوا۔ ابتدا میں یہ ایک آگاہی مہم تھی، لیکن وقت کے ساتھ اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں کے اداروں، پولیس، کاروباری تنظیموں اور مختلف سماجی حلقوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اس مہم کے دو بنیادی مقاصد ہیں: مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور معاشرے میں مسلمانوں کی مثبت خدمات اور کردار کو اجاگر کرنا۔ اس سال کی مہم کا نعرہ ’Don’t Let It Slide‘ رکھا گیا ہے، جس کا مفہوم ہے کہ اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو نظرانداز کرکے آگے نہ بڑھ جائیں۔ منتظمین کے مطابق کسی طالب علم کے مذہب پر مذاق اڑانا، حجاب پہننے والی خاتون کے ساتھ ملازمت کی جگہ پر مختلف سلوک کرنا، کسی مسلم خاندان کو سڑک پر ہراساں کرنا یا مسجد کو نقصان پہنچانا، یہ سب ایک ایسے ماحول کی علامتیں ہیں جہاں تعصب کو معمولی بات سمجھ کر برداشت کیا جانے لگتا ہے۔ مہم کا پیغام ہے کہ خاموشی اور بے عملی بھی نفرت کے معمول بننے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ: صدارتی انتخاب میں قائم مقام صدر الیانا یوتووا نے واضح برتری حاصل کی
مہم کے لیے جاری پریس ریلیز میں برٹش مسلم ٹرسٹ کی رپورٹ ’A Year of Division‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں اوسطاً ہر ۵؍ دن میں ایک مسجد پر حملہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کی نوعیت مختلف رہی ہے، جن میں آتش زنی، چاقو سے حملے، مسجد کی املاک کو نقصان پہنچانا اور دھمکانا شامل ہیں۔ یہ واقعات صرف عمارتوں یا املاک کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے اپنی عبادت گاہوں میں بلاخوف عبادت کرنے کے حق اور تحفظ کے احساس کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے محکمہ داخلہ (Home Office) کے ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جاری کردہ اعداد و شمار بھی صورت حال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں مارچ ۲۰۲۶ء کو ختم ہونے والے سال کے دوران پولیس نے مجموعی طور پر ۱۴۶۸۲۵؍ نفرت پر مبنی جرائم ریکارڈ کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۷؍ فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں مذہبی بنیادوں پر نفرت کے جرائم کی تعداد ۱۰۰۶۷؍ سے بڑھ کر ۱۴۱۹؍ ہوگئی، یعنی ۱۳؍ فیصد اضافہ۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے مذہبی نفرت کے جرائم ۴۴۷۹؍ سے بڑھ کر ۵۱۳۲؍ ریکارڈ کیے گئے، جو ۱۵؍ فیصد اضافہ ہے۔ یہ واقعات انگلینڈ اور ویلز کے سرکاری پولیس ریکارڈ سے متعلق ہیں، پورے برطانیہ کے تمام واقعات کا مکمل تخمینہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: اجرت میں اضافے کے مطالبے پر مزدوروں کا احتجاج پر تشدد، شاہراہیں بند
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ ۲۰۲۶ء کو ختم ہونے والے سال میں مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں مسلمانوں کے خلاف ریکارڈ کیے گئے واقعات کا حصہ ۴۶؍ فیصد تھا، جب کہ یہودیوں کو نشانہ بنانے والے واقعات ۲۸؍ فیصد تھے۔ اسی مدت میں نسل یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر نفرت کے جرائم میں بھی ۹؍ فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم محکمہ داخلہ نے خود واضح کیا ہے کہ پولیس ریکارڈ میں درج واقعات کو معاشرے میں نفرت کے حقیقی پھیلاؤ کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ ہر متاثرہ شخص واقعے کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ پولیس کے ریکارڈنگ نظام اور جرائم کی شناخت کے طریقوں میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئی ہیں، اس لیے طویل مدتی رجحانات کا موازنہ کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ مہم کے منتظمین کے مطابق اسلاموفوبیا صرف مسجد پر حملے یا کسی مسلمان کے خلاف کھلی گالی گلوچ تک محدود نہیں۔ یہ تعلیمی اداروں، ملازمت کی جگہوں، اسپتالوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور روزمرہ سماجی زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں سامنے آسکتا ہے۔ حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ امتیازی رویہ، مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد مفروضے، مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہراسانی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اس کی مثالیں ہیں۔ مہم کا کہنا ہے کہ میڈیا اور سیاست میں مسلمانوں کی غلط یا یک طرفہ تصویر کشی بھی عوامی رویوں کو متاثر کرسکتی ہے اور تعصب کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ٹرمپ کا ہتک عزت کا مقدمہ مستقل طور پر خارج
اسلاموفوبیا آگاہی مہینے کے دوران اسکولوں، یونیورسٹیوں، مساجد، کام کی جگہوں اور مقامی برادریوں کو مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان میں آگاہی ورکشاپس، مباحثے، تربیتی پروگرام، تعلیمی مواد کی تقسیم، سوشل میڈیا مہمات اور متاثرہ افراد کے تجربات سننے کے لیے اجتماعات شامل ہیں۔ مہم کی ویب سائٹ پر اسکولوں، مساجد، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے کے لیے الگ الگ معلوماتی مواد بھی فراہم کیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ تعصب کے خلاف عملی اقدامات کے لیے ضروری ہے کہ لوگ صرف واقعات کی مذمت نہ کریں بلکہ اپنے اداروں اور کمیونٹیز میں امتیازی رویوں کی نشاندہی اور روک تھام بھی کریں۔ اس سال کی مہم میں سابق انگلش کرکٹر معین علی (Moeen Ali) کو سفیر کی حیثیت سے بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شمولیت سے مہم کو کھیل اور عوامی زندگی سے وابستہ حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلاموفوبیا آگاہی مہینے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا مقابلہ صرف متاثرہ کمیونٹی کی ذمہ داری نہیں؛ تعصب دیکھنے والے ہر فرد، ادارے اور سماجی تنظیم کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔