Updated: June 18, 2026, 10:04 PM IST
| London
رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی تازہ ترین ڈجیٹل نیوز رپورٹ ۲۰۲۵ء کے مطابق دنیا بھر میں خبروں سے اجتناب (News Avoidance) ایک مسلسل بڑھتا ہوا رجحان بن چکا ہے۔ ۴۸؍ ممالک میں سروے کیے گئے افراد میں سے تقریباً ۴۲؍ فیصد نے بتایا کہ وہ کبھی کبھار یا اکثر جان بوجھ کر خبروں سے دور رہتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات خبروں کی بہتات، جنگوں اور سیاسی تنازعات کا مسلسل کوریج، ذہنی دباؤ، بے چینی اور بے بسی کے احساسات ہیں۔
دنیا بھر میں کروڑوں افراد اب جان بوجھ کر خبروں سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کی تازہ ترین ڈجیٹل نیوز رپورٹ ۲۰۲۵ء کے مطابق خبروں سے اجتناب کا رجحان گزشتہ کئی برسوں سے بلند سطح پر برقرار ہے اور اب یہ عالمی میڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ، جو ۴۸؍ ممالک اور تقریباً ایک لاکھ افراد کے سروے پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ ۴۲؍ فیصد افراد کبھی کبھار یا اکثر خبروں سے گریز کرتے ہیں۔ یہ شرح ۲۰۱۷ء میں ۲۹؍ فیصد تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں نیوز اوائڈنس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ محققین کے مطابق خبروں سے دوری کی سب سے بڑی وجہ ذہنی اور جذباتی دباؤ ہے۔ سروے میں شامل افراد نے بتایا کہ جنگوں، سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی تنازعات سے متعلق مسلسل منفی خبروں کی وجہ سے وہ بے چینی، تھکن اور مایوسی محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گروک اے آئی کا استعمال ایران پر حملوں میں کیا گیا
تقریباً ۳۹؍ فیصد افراد نے کہا کہ خبریں ان کے موڈ پر منفی اثر ڈالتی ہیں، جبکہ ۳۱؍ فیصد نے خبروں کی بہتات کو اپنی دوری کی وجہ قرار دیا۔ جنگوں اور تنازعات کی حد سے زیادہ کوریج اور سیاست سے متعلق مسلسل خبروں کا بھی بڑی تعداد نے ذکر کیا۔ رپورٹ میں خبروں سے گریز کرنے والوں کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی قسم ان افراد کی ہے جو عمومی طور پر عوامی معاملات میں کم دلچسپی رکھتے ہیں اور مستقل طور پر خبروں سے دور رہتے ہیں۔ دوسری اور تیزی سے بڑھنے والی قسم ’’منتخب اجتناب کرنے والوں‘‘ کی ہے، جو خبروں میں دلچسپی تو رکھتے ہیں لیکن مخصوص موضوعات، خاص طور پر جنگ، سیاست اور تنازعات سے متعلق خبروں کی نمائش محدود کر دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان نسل اس رجحان میں سب سے آگے ہے۔ ۱۸؍ سے ۲۴؍ سال کے افراد کی بڑی تعداد اب خبروں کے لیے روایتی ذرائع کے بجائے سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز اور آن لائن شخصیات پر انحصار کر رہی ہے۔ ۴۸؍ ممالک میں ۱۸؍ سے ۲۴؍ سال کے ۴۴؍ فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز ان کا بنیادی نیوز سورس ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر تعلیمی اداروں پر۸۵۰۰؍ سے زائد حملے، فلسطین سب سے زیادہ متاثر: رپورٹ
امریکہ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ زیادہ افراد نے ٹی وی اور نیوز ویب سائٹس کے مقابلے میں سوشل میڈیا اور ویڈیو نیٹ ورکس سے خبریں حاصل کرنے کی اطلاع دی۔ نوجوان امریکیوں میں نصف سے زیادہ افراد خبروں کے لیے انہی پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں۔ رپورٹ میں ’’ڈوم اسکرولنگ‘‘ اور ’’الرٹ فیٹیگ‘‘ جیسے رجحانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل موبائل نوٹیفکیشنز اور بریکنگ نیوز الرٹس صارفین کو ذہنی طور پر تھکا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد خبروں کی ایپس یا نوٹیفکیشنز بند کر دیتے ہیں۔ ایک علیحدہ تحقیق کے مطابق ۴۳؍ فیصد افراد نے نوٹیفکیشنز کی زیادتی اور غیر متعلقہ خبروں کی وجہ سے نیوز الرٹس بند کر دیے۔
یہ بھی پڑھئے: کوٹا سے طلبہ اور نوجوانوں کیلئے کانگریس کی ملک گیر تحریک کا دھماکہ دار آغاز
ہندوستان کا حال
ہندوستان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ہندوستانی صارفین اب بھی بڑی مقدار میں ڈجیٹل خبریں استعمال کرتے ہیں، تاہم معلومات کی بہتات، غلط معلومات، سیاسی پولرائزیشن اور منفی خبروں کی مسلسل موجودگی کے باعث خبروں کی تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ نوجوان ہندوستانی صارفین اب روایتی نیوز برانڈز کے بجائے مخصوص موضوعات، ویڈیو فارمیٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انفرادی کریئیٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ نے ایک اور اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوان نسل تیزی سے اے آئی چیٹ بوٹس اور متبادل ڈجیٹل ذرائع کے ذریعے خبریں حاصل کر رہی ہے۔ امریکہ میں ۲۵؍ سال سے کم عمر افراد میں تقریباً ۱۵؍ فیصد نے بتایا کہ وہ خبریں حاصل کرنے کے لیے اے آئی ٹولز جیسے چیٹ جی پی ٹی اور جیمینائی استعمال کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صحافت کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ لوگ خبریں کہاں سے حاصل کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگ خبروں سے دور کیوں جا رہے ہیں۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مستقبل میں کامیاب نیوز اداروں کو صرف تیزی سے خبریں فراہم کرنے کے بجائے زیادہ متوازن، تعمیری، بامعنی اور سامعین کی ذہنی صحت کا خیال رکھنے والی صحافت پر توجہ دینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: منظم سازشوں کے باوجود مسلم یونیورسٹیوں کی عمدہ کارکردگی
کلیدی نتائج
(۱) ۴۸؍ ممالک میں ۴۲؍ فیصد افراد کبھی کبھار یا اکثر خبروں سے گریز کرتے ہیں۔
(۲) ۲۰۱۷ء میں یہ شرح ۲۹؍ فیصد تھی، جو اب نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔
(۳) خبروں سے دوری کی بڑی وجوہات ذہنی دباؤ، بے چینی، خبروں کی تھکاوٹ اور جنگوں و سیاست کی مسلسل کوریج ہیں۔
(۴) نوجوان نسل سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز کو اپنی بنیادی نیوز سورس بنا رہی ہے۔
(۵) امریکہ میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا نے ٹی وی اور نیوز ویب سائٹس کو خبروں کے بنیادی ذریعہ کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا۔
(۶) ہندوستان میں بھی معلومات کی زیادتی، غلط معلومات اور سیاسی پولرائزیشن کے باعث خبروں کی تھکاوٹ بڑھ رہی ہے۔
(۷) اے آئی چیٹ بوٹس اور متبادل ڈجیٹل ذرائع نوجوان صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔