• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: محمد یونس کی سربراہی میں ملک مزید پستی کی جانب گامزن: رپورٹ

Updated: January 23, 2026, 2:05 PM IST | Dhaka

ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش ، عبوری سربراہ محمد یونس کے زیر قیادت مزید پستی کی جانب گامزن ہوگیا، انقلابی عزائم اور مثالی حکومت کے دعوے کرنے والے محمد یونس اور ان کے اتحادی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔

Bangladesh Chief Advisor Muhammad Yunus. Photo: INN
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے اقتدار میں آتے ہوئے سماجی ہم آہنگی، اصلاح شدہ سیاسی نظام، نئے معاشی مواقع فراہم کرنے اور ان مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا جن کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نکلے تھے۔ تاہم، ان مسائل کو نمٹانے کے وعدے کے باوجود ان کی حکومت اور اس کے اتحادی بدعنوانی کےالزامات  کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ایک ای یو رپورٹر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر کوئی۱۲؍ فروری کو بنگلہ دیش میں ہونے والے انتخابات اور ریفرنڈم کا منتظر ہے۔ شیخ حسینہ کی زیر قیادت حکومت کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے، یونس انتظامیہ کا اصرار ہے کہ انہیں انتخابات کو منصفانہ طورسے منعقد کروانے کے لیے وقت درکار ہے۔ تاہم، انتخابات میں ایک مہینہ سے بھی کم وقت رہ جانے کے باوجود سوالات برقرار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا، ’’ملک کے لیے اہم وقت ہونے کے باوجود، محمد یونس گم سم نظر آتے ہیں۔ گذشتہ چند مہینوں میں، وہ شخص جو بہت سے لوگوں کے لیے انقلاب کے بعد کے بنگلہ دیش کا علامتی چہرہ سمجھا جاتا تھا، عوامی زندگی سے تقریباً غائب ہو گیا ہے، جو عوامی تقریبات میں ان کی گزشتہ موجودگی سے یکسر مختلف ہے۔ کچھ لوگ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ شاید وہ اگلے صدر بننے کے لیے کوئی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی غیر موجودگی کی وجہ سے بی این پی کے لیڈر طارق الرحمان ملک کےقائم مقام لیڈرا کے طور پر کام کر رہے ہیں، جو بنگلہ دیش۔ہندوستان  تعلقات کے تاریخ کے کم ترین سطح پر ہونے کے وقت ہندوستانی معززین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: جعلی ’پیزا ہٹ‘ کا افتتاح، خواجہ آصف ٹرول

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کوہندوستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، مہنگائی اور ملکی بینک کاری نظام جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔جبکہ یونس کی زیرقیادت حکومت بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے باہمی اور فرقہ وارانہ تشدد کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں۲۰۲۵ء میں ایک اہم شخصیت کی ہلاکت ہوئی۔ اقتدار میں آتے ہوئے، یونس نے سماجی ہم آہنگی، اصلاح شدہ سیاسی نظام اور نئے معاشی مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، اس مسئلے سے نمٹنے کے وعدے کے باوجود ان کی حکومت اور اس کے اتحادی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی پر غور، امریکی فوجی تیاری تیز

ای یو رپورٹر میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا، ’’آخر کار، ملک مزید پستی میں چلا گیا ہے کیونکہ انقلاب کی بنیاد رکھنے والے بلند عزائم، عبوری حکومت کے دور میں منتشر ہو گئے۔ روایتی نگران حکومتوں کے برعکس، عبوری حکومت نے اصلاحات کا ایک ہدف مقرر کیا ہے جو بنگلہ دیش کو اس کی اپنی تصویر میں نئے سرے سے تشکیل دے گا۔ لیکن اس کے اقدامات کی جانبدارانہ نوعیت پر عوام کا اعتماد ندارد ہے۔ساتھ ہی رپورٹ میں مزید کہا گیا، ’’اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد یونس بنگلہ دیش میں کیا ورثہ چھوڑیں گے۔ این جی او کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر معروف لیڈربننے کے بعد، یونس عالمی اشرافیہ کے من پسند منصوبوں میںاپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے  تھے۔ اس کے بجائے، انہوں نے ایک عبوری حکومت کی نگرانی کی ہے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جہاں پہلے سے موجود سماجی تناؤ اور حکومت میں کم ہوتا اعتماد دراڑوں میں سرایت کر کے ان خالی جگہوں کو مزید بڑھا رہا ہے جنہیں حکومت کو پر کرنا تھا۔بعد ازاں اٹھارہ ماہ بعد بنگلہ دیش کا پہلا جمہوری طور پر منتخب حکمران ہوگا، اس کے پاس عبوری حکومت کی بد نظامی کو درست کرنے کی اہم ذمہ داری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK