امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت اور فیصلہ کن فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج اور عسکری سازوسامان کی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 6:04 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت اور فیصلہ کن فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج اور عسکری سازوسامان کی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ ’’فیصلہ کن‘‘ اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ فوجی اور سلامتی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایسے آپشنز پیش کریں جو تیز، مؤثر اور واضح نتائج دینے والے ہوں۔ اسی تناظر میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر دی ہے۔ بحری بیڑے، جنگی طیارے اور اضافی فوجی وسائل خطے میں منتقل کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں، تاہم پیغام واضح ہے کہ واشنگٹن طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ناسا کی خلاباز سنیتا ولیمز نے ۲۷؍ سال بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا
ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ ایران نہ صرف خطے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے بلکہ امریکی مفادات اور اتحادیوں کے لیے بھی براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ایران کی جانب سے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں، بحیرۂ احمر اور خلیج میں بڑھتی کشیدگی، اور جوہری پروگرام نے امریکہ کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیرِ غور آپشنز میں مخصوص فوجی اہداف پر حملے، کمانڈ ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور سخت معاشی و سفارتی دباؤ میں مزید اضافہ شامل ہے۔ تاہم ابھی تک کسی حتمی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی گئی۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ یا اس کے مفادات کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھایا تو جواب ’’انتہائی سخت‘‘ ہوگا۔
ایرانی قیادت نے امریکی بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم ہوا تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال خطے کو ایک نازک موڑ پر لے آئی ہے، جہاں سفارت کاری، فوجی دباؤ اور سخت بیانات ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اور دنیا کی نظریں امریکہ اور ایران کے اگلے قدم پر جمی ہوئی ہیں۔