• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: جعلی ’پیزا ہٹ‘ کا افتتاح، خواجہ آصف ٹرول

Updated: January 21, 2026, 8:02 PM IST | Islamabad

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے سیالکوٹ میں ایک مبینہ پیزا ہٹ اسٹور کے افتتاح نے نیا تنازع کھڑا کر دیا، جب کمپنی نے واضح کیا کہ یہ آؤٹ لیٹ اس کی مستند فرنچائز نہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف ایک بار پھر عوامی اور سیاسی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جب انہوں نے سیالکوٹ میں ایک ایسے پیزا اسٹور کا افتتاح کیا جسے بعد ازاں اصل کمپنی نے جعلی اور غیر مستند قرار دیا۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سنجیدہ سیاسی بحث میں بدل گیا۔ یہ افتتاحی تقریب بظاہر ایک نجی کاروباری سرگرمی تھی، جس میں وزیرِ دفاع نے ربن کاٹ کر ایک پیزا آؤٹ لیٹ ’’پیزا ہٹ‘‘ کا افتتاح کیا۔ اسٹور کی برانڈنگ اور نام سے یہ تاثر دیا گیا کہ یہ عالمی فوڈ چین پیزا ہٹ سے وابستہ ہے۔ تاہم کچھ ہی گھنٹوں بعد پیزا ہٹ پاکستان نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے اس آؤٹ لیٹ سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کر دی۔

یہ بھی پڑھئے: ناسا کی خلاباز سنیتا ولیمز نے ۲۷؍ سال بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا

کمپنی کے مطابق مذکورہ اسٹور ان کی منظور شدہ فرنچائز نہیں تھا اور نہ ہی اسے برانڈ نام، لوگو یا ڈیزائن استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ برانڈ کا اس طرح غیر قانونی استعمال صارفین کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، اور اس معاملے پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔ واقعے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے خواجہ آصف اور ان کی ٹیم پر شدید تنقید کی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی تقریب میں شرکت یا افتتاح سے قبل مکمل تصدیق کریں۔ کئی افراد نے اسے ’’شرمناک غفلت‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے طنزیہ انداز میں اسے حکومت کی مجموعی کارکردگی سے جوڑ دیا۔
سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ حزبِ اختلاف نے واقعے کو حکومتی نااہلی اور غیر سنجیدگی کی علامت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ ایک جعلی کاروبار کو سرکاری سطح پر کیسے پذیرائی ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزرا خود جعلی برانڈز کی تشہیر کا حصہ بن جائیں تو عام صارفین کے تحفظ کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حامیوں نے اسے محض ایک انتظامی غلطی یا مقامی منتظمین کی کوتاہی قرار دیا۔ ان کے مطابق وزیرِ دفاع کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں اسٹور کی قانونی حیثیت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وضاحت بھی ذمہ داری سے بچنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: استنبول: اسرائیل سے منسلک برانڈز کے خلاف پہلا ’’فری غزہ مارکیٹ‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ پاکستان میں برانڈ پروٹیکشن، فرنچائز قوانین اور سرکاری شخصیات کی عوامی سرگرمیوں کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق کی کمی کو اجاگر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ’’وائرل لمحہ‘‘ نہیں بلکہ ریاستی سطح پر نگرانی اور تصدیق کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ مجموعی طور پر جعلی پیزا اسٹور کا یہ افتتاح خواجہ آصف کے لیے ایک اور سیاسی سبکی بن گیا ہے، جس نے نہ صرف ان کی ساکھ بلکہ حکومتی نظم و نسق پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز افراد کے ہر قدم کو عوامی جانچ کا سامنا ہوتا ہے، اور معمولی غفلت بھی بڑے تنازع میں بدل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK