Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈونالڈ ٹرمپ کے عملے کے بیشتر اراکین کا وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کا ارادہ: رپورٹ

Updated: August 29, 2026, 4:14 PM IST | Washington

ایک رپورٹر کے دعوے کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کے عملے کے بیشتر اراکین کا وہائٹ ہاؤس چھوڑنے کا ارادہ ہے، کیونکہ ایران جنگ جاری ہے اور ریپبلکن وسط مدتی انتخابات میں ممکنہ شکست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

وہائٹ ہاؤس کے اندر کشیدگی کا ماحول  ہے اور متعدد عملے کے اراکین جلد ہی باہر نکل سکتے ہیں، خاص طور پر پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کی آئندہ دنوں روانگی کے بعد۔نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار میگی ہیبرمین، جو ٹرمپ پر حالیہ کتاب کی شریک مصنف ہیں، نے جمعرات کو ایم ایس ناؤ کو بتایا، ’’ہم سے بات کرنے والے ہر شخص کے مطابق، وہ اپنے عملے کے ساتھ اچھی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ بہت زیادہ ناراض ہیں، جو عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب حالات اچھے نہ ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’زیادہ تر لوگ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
بعد ازاں وہائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے دی انڈیپنڈنٹ سے ایک بیان میں کہا: ’’نیویارک ٹائمز کی میگی ہیبرمین مسلسل ایسے بولتی ہیں جیسے وہ ٹرمپ کی ماہر نفسیات ہوں، جبکہ حقیقت میں انہیں صدر کے ساتھ ایک عجیب جنون ہے اور وہ مطابقت کے لیے ان سے چمٹی رہتی ہیں۔ برسوں سے یہ دیکھنا بہت افسوسناک رہا ہے۔‘‘جبکہ انتظامیہ کے اندر تناؤ کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔وہائٹ ہاؤس کے اندر ناتھلی ہارپ کے بارے میں شکایات سنی گئی ہیں، جو صدر کے ساتھ اپنی عقیدت کے لیے مشہور ایک معاون ہیں۔ ہیبرمین نے پچھلے ہفتے سی این این کو بتایا تھا کہ’’وہ اپنے بہت سے ساتھیوں کو پسند نہیں ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے:ایران: باقر قالیباب کی اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید، کہا اپنےعوام کی ضروریات پر توجہ دیں

تاہم  اطلاعات کے مطابق صدر نے حال ہی میں کیمپ ڈیوڈ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا سامنا کیا اور کہا کہ ایران جنگ امریکی گولہ بارود کی قلت کا باعث بن رہی ہے جو تنازع ختم کرنے کے امریکی اختیارات کو محدود کر سکتی ہے۔ دو ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے یہ ظاہر کیا کہ انہیں گولہ بارود کے کم ہوتے ذخیرے کے بارے میں گمراہ کیا گیا، کیونکہ انہیں لگا تھا کہ یہ مسئلہ ’’حل ہو چکا ہے، ‘‘  یہ خبر واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی۔اس رپورٹ کے نتیجے میں صدر نے سوشل میڈیا پر ’’غدار‘‘ کہہ کر اس خبر کو ’’ افشا‘‘ کرنے کے خلاف برہمی کا اظہار کیا۔ صدر نے اس ماہ کے اوائل میں ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’دفاعی کمپنیاں ہماری ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ پلانٹس اور فیکٹریاں بنا رہی ہیں ۔ یہ خبر  مکمل طور پر جعلی ہے۔ ان غدارانہ بیانات کے افشاکرنے والے کو ڈھونڈا جا رہا ہے۔ اور انہیں طویل قید کی سزائیں دی جائیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

مزید برآں وائٹ ہاؤس اس بات سے بھی ناخوش تھا کہ ایف بی آئی ڈائریکٹر کیش پٹیل اس سال کے شروع میں امریکی اولمپک ہاکی ٹیم کے فاتح ممبران کے ساتھ پارٹی کرتے دیکھے گئے، اور انہیں برطرف کرنے پر کھل کر بات کی گئی۔ وائٹ ہاؤس اور پٹیل نے ان بیانات کی تردید کی ہے، اور ایف بی آئی ڈائریکٹر نے دی اٹلانٹک کے خلاف دفاعی توہین کا مقدمہ دائر کیا ہے جس میں پٹیل کی عہدے میں مشکلات کے بارے میں رپورٹنگ کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ لیویٹ کی روانگی سے پہلے، جو اس مہینے کے آخر میں متوقع ہے، چند نمایاں عملے کی تبدیلیاں ہوئیں۔ مارچ میں ہوم لینڈ سیکورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم کو محکمانہ اخراجات کی جانچ اور مینیسوٹا میں امیگریشن ایجنٹوں کی دو مظاہرین کو جان لیوا گولی مارنے کے بعد عوامی غم و غصے کے سبب ہٹا دیا گیا۔ اگلے مہینے، اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کی ایپسٹین فائلوں سے متعلق افراتفری کے بعد برطرف کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں موسم خزاں کے دوران، ٹرمپ نے عوامی طور پر بونڈی سے اپنے دشمنوں کے خلاف زیادہ جارحانہ قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK