آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے گرمی سے متاثر ۵۰؍ شہروں میں سب سے زیادہ ہندوستان میں واقع ہیں، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں، جبکہ نائجیریا اور پاکستان بالترتیب پانچ اور چار شہروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 10:01 PM IST | London
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے گرمی سے متاثر ۵۰؍ شہروں میں سب سے زیادہ ہندوستان میں واقع ہیں، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں، جبکہ نائجیریا اور پاکستان بالترتیب پانچ اور چار شہروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، دنیا کے۵۰؍ گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں ہندوستان کے۱۴؍ شہر شامل ہیں، جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔ نائجیریا اور پاکستان بالترتیب پانچ اور چار شہروں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔اس تحقیق میں شہروں کو صرف درجہ حرارت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تین عوامل پر جانچاگیا، شدید گرمی سے براہِ راست متاثر ہونے والے لوگوں کی تعداد، ان کی حساسیت (خاص طور پر کچی آبادیوں میں رہنے والے جن کے پاس مناسب ہوا داری اور بجلی/پانی نہیں)، اور شہر کی گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت (جہاں سبز علاقے اور کھلی جگہیں مددگار ہوتی ہیں)۔
یہ بھی پڑھئے: یومِ ماحولیات: اے آئی کا پانی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ: یو این
ہندوستانی ریاستوں میں مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثر ہے جس میں ناگپور (چوتھا)، پونے (تیئسواں) اور ممبئی (چھیالیسواں) شامل ہیں۔جبکہ تمل ناڈو اور اتر پردیش کے دو دو شہر ہیں- چنئی اور مدورائی، اور کانپور اور لکھنؤ۔ دیگر آٹھ شہر مختلف ریاستوں سے ہیں، جن میں احمد آباد (دوسرا عالمی درجہ)، پٹنہ، بنگلور، بھوپال (۱۵؍واں)، جے پور، حیدرآباد، اور کولکاتا۔تحقیق میں کہا گیا کہ شہروں میں گرمی کا خطرہ صرف درجہ حرارت کی شدت سے نہیں بلکہ نمی، اوسط تابکاری درجہ حرارت، ہوا کی رفتار، سماجی و آبادیاتی حساسیت، اور نظامی سطح پر نمٹنے کی صلاحیت کے مشترکہ اثرات سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غذا میں موجودغیرمحفوظ کیمیائی مادے سالانہ۱۵؍لاکھ کے ۷۳؍ فیصد اموات کا سبب: رپورٹ
بعد ازاں محققین نے ایئر کنڈیشنگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خلاف خبردار کیا ہے، کیونکہ اس سے بجلی کی طلب بڑھتی ہے، گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوتا ہے، اور شہری گرمی مزید بڑھ سکتی ہے۔ آکسفورڈ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رادھیکا کھوسلا نے کہا کہ گرمی سے بچاؤ کے منصوبوں میں صرف نمائش نہیں بلکہ حساسیت اور نمٹنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فعال ٹھنڈک (passive cooling) اور پنکھے جیسی کم توانائی والی ٹیکنالوجی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔