Updated: November 06, 2026, 10:15 PM IST
| New Delhi
۲۰۲۴ء کے تخمینوں کے مطابق ہندوستان میں ایک سال کے دوران کینسر کے ۶ء۱۵؍ لاکھ سے زائد نئے مریض سامنے آئے، جبکہ دنیا بھر میں ۰۶ء۲؍ کروڑ افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوئی۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں اضافے اور عمر رسیدگی کے باعث ۲۰۵۰ء تک دنیا میں سالانہ نئے کیسز کی تعداد ۴۴ء۳؍ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
کینسر دنیا بھر میں صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں ۲۰۲۴ء کے دوران کینسر کے تقریباً ۱۵؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا، یعنی اوسطاً ہر روز تقریباً ۴۲۸۰؍ افراد اس مرض میں مبتلا قرار دیے گئے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر اسی سال کینسر کے ۲؍ کروڑ ۶؍ لاکھ نئے کیسز سامنے آنے کا اندازہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری کا بوجھ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ آنے والی دہائیوں میں صحت کے نظام پر اس کا دباؤ مزید شدید ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) اور امریکن کینسر سوسائٹی (ACS) کے تازہ عالمی تخمینوں کے مطابق ۲۰۲۴ء میں کینسر کے باعث تقریباً ۹۸؍ لاکھ افراد کی موت ہوئی۔ ان اعداد و شمار میں ۱۸۶؍ ممالک اور کینسر کی ۳۴؍ اقسام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر پانچ میں سے تقریباً ایک شخص کو زندگی کے کسی مرحلے پر کینسر ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہر ۹؍ مردوں میں سے ایک اور ہر ۱۳؍ خواتین میں سے ایک کی موت اس بیماری کے سبب ہونے کا تخمینہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ کے مانڈوا میں ایل ای ڈی کے ذریعے ماہی گیری پرسخت کارروائی
رپورٹ کا سب سے تشویش ناک پہلو ۲۰۵۰ء کے لیے پیش کیا گیا تخمینہ ہے۔ موجودہ شرحوں اور آبادی کے رجحانات کی بنیاد پر دنیا میں سالانہ نئے کیسز کی تعداد ۳؍ کروڑ ۴۴؍ لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۶۷؍ فیصد اضافہ ہوگا۔ محققین کے مطابق اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی آبادی کا بڑھنا اور لوگوں کی اوسط عمر میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور بعض انفیکشن بھی کینسر کے خطرے میں اضافہ کرنے والے عوامل میں شامل ہیں۔ ہندوستان کے اعداد و شمار بھی اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق ۲۰۲۴ء میں ملک میں کینسر کے ۱۵۶۲۰۹۹؍ نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ اس مرض سے ہونے والی اموات کی تعداد تقریباً ۸۷۴۴۰۴؍ بتائی گئی۔ نئے مریضوں میں مردوں کی تعداد ۷۸۰۸۲۲؍ اور خواتین کی ۷۸۱۲۷۷؍ رہی۔ اس طرح دونوں جنسوں میں نئے کیسز کی مجموعی تعداد تقریباً برابر رہی، اگرچہ کینسر کی اقسام کے اعتبار سے نمایاں فرق موجود ہے۔
مردوں میں منہ کا کینسر سب سے زیادہ عام پایا گیا، جس کے تقریباً ۱۱۳۲۴۹؍ کیسز کا تخمینہ ہے۔ اس کے بعد پھیپھڑوں کے کینسر کے ۷۴۷۶۳؍ اور پروسٹیٹ کینسر کے ۴۹۹۹۸؍ کیسز درج کیے گئے۔ خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے نمایاں رہا، جس کے تقریباً ۲۳۸۰۸۵؍ کیسز سامنے آئے۔ اس کے بعد رحم کے منہ کے کینسر کے ۷۸۴۹۹؍ اور بیضہ دانی کے کینسر کے ۴۸۹۸۴؍ کیسز کا تخمینہ لگایا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہندوستان میں مردوں کے لیے منہ اور پھیپھڑوں کے کینسر، جبکہ خواتین کے لیے چھاتی اور تولیدی نظام سے متعلق کینسر اہم طبی چیلنج ہیں۔ عالمی سطح پر پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی قسم رہی۔ ۲۰۲۴ء میں اس کے تقریباً ۲۶؍ لاکھ کیسز سامنے آنے کا تخمینہ ہے، جو دنیا بھر کے نئے کیسز کا ۸ء۱۲؍ فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد خواتین میں چھاتی کا کینسر، بڑی آنت اور مقعد کا کینسر، پروسٹیٹ اور معدے کا کینسر نمایاں رہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر اموات کے اعتبار سے بھی پہلے نمبر پر رہا، جس سے تقریباً ۱۹؍ لاکھ افراد کی موت کا تخمینہ لگایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: متنازع بیان پر دھریندرشاستری کیخلا ف فوجداری کا معاملہ درج
ماہرین کے نزدیک کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے صرف علاج کی سہولتوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ بیماری کی روک تھام، ابتدائی تشخیص اور عوامی آگاہی کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب، صحت مند وزن برقرار رکھنا، متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، الکحل سے پرہیز اور کینسر سے منسلک بعض انفیکشنز کے خلاف حفاظتی اقدامات اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس کے ساتھ چھاتی، رحم کے منہ اور منہ کے کینسر سمیت مختلف اقسام کی بروقت اسکریننگ اور مشتبہ علامات کی صورت میں طبی معائنہ بیماری کی جلد شناخت میں مدد دے سکتا ہے۔ IARC کے تخمینے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کینسر کے نئے کیسز میں اضافے کا اثر تمام ملکوں پر یکساں نہیں ہوگا۔ کم اور متوسط انسانی ترقی والے ممالک میں شرحِ اضافے کا دباؤ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ ہندوستان جیسے بڑی آبادی والے ملک کے لیے اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں تشخیص، علاج، اسپتالوں، ماہر ڈاکٹروں اور مالی وسائل کی ضرورت مزید بڑھ سکتی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق مؤثر روک تھام اور صحت کی سہولتوں تک بہتر رسائی کے بغیر کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پانا مشکل ہوگا۔