Updated: May 01, 2026, 2:37 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں ڈجیٹل میڈیا کی تیز رفتار ترقی نے جہاں مواد کی کھپت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، وہیں اسکرین ایڈکشن (اسکرین کا نشہ) ایک بڑے صحت کے مسئلے کے طور پر ابھرا ہے۔ فکی ای وائی میڈیا رپورٹ ۲۰۲۶ء کے مطابق اسمارٹ فونز اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے روایتی ٹی وی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ صارفین اب دن بھر مختلف ایپس کے درمیان تیزی سے سوئچ کرتے ہیں۔ اس بڑھتے رجحان کے باعث نیند میں خلل، توجہ کی کمی اور ذہنی انحصار جیسے مسائل خاص طور پر بچوں میں بڑھ رہے ہیں۔
ہندوستان میں میڈیا اور انٹرٹینمنٹ سیکٹر میں تیزی سے آنے والی ڈجیٹل تبدیلی نے صارفین کے رویوں کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ فکی اور ینگ ارنسٹ کی مشترکہ میڈیا انٹرٹینمنٹ رپورٹ ۲۰۲۶ء کے مطابق اب ڈجیٹل میڈیا اس شعبے میں سب سے آگے نکل چکا ہے، جبکہ ٹیلی ویژن اب بھی بڑے پیمانے پر ناظرین تک رسائی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس تبدیلی کو ’’ریپلیسمنٹ‘‘ کے بجائے ’’کنورجنس‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، یعنی مختلف اسکرینز اور پلیٹ فارمز کا ملاپ۔
یہ بھی پڑھئے: قسط ادا نہ کرنے پر ریکوری ایجنٹوں کے ہاتھوں صارف کی پٹائی
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں تقریباً ۷۸؍ فیصد صارفین اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں جبکہ ۷ء۷۷؍ کروڑ اسکرینز فعال ہیں۔ مزید یہ کہ ۵۸ء۸۷؍ کروڑ ہائبرڈ ویورز ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ پلیٹ فارمز (ٹی وی، موبائل، او ٹی ٹی) پر مواد دیکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ۵ء۷۴؍ کروڑ افراد ہفتہ وار ٹی وی دیکھتے ہیں اور ۴؍ کروڑ گھروں میں کنیکٹڈ ٹی وی موجود ہے، جو ڈجیٹل اور روایتی میڈیا کے امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈجیٹل مواد کی اس بھرمار نے دیکھنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ پہلے جہاں لوگ مقررہ اوقات میں خاندان کے ساتھ ٹی وی دیکھتے تھے، اب وہ دن بھر انفرادی طور پر مختلف ایپس اور پلیٹ فارمز کے درمیان تیزی سے سوئچ کرتے ہیں۔ خاص طور پر رات کے وقت اسکرین استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث صارفین کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہورہی ہے اور اسکرین ٹائم میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی صرف میڈیا انڈسٹری تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ اسکرین استعمال نیند میں خلل، توجہ کی کمی، اور ڈجیٹل انحصار جیسے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ بچوں میں یہ اثرات زیادہ واضح ہیں، جہاں مسلسل موبائل یا ٹیبلٹ استعمال کرنے سے ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انسانی حقوق کمیشن پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کی تنقید،’’مسلمانوں کی لنچنگ پر خاموشی کیوں؟‘‘
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ ڈجیٹل ترقی ناگزیر ہے، لیکن اس کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو اس بڑھتے رجحان پر قابو پانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے، جیسے کہ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا، متبادل سرگرمیوں کو فروغ دینا، اور ڈجیٹل لٹریسی کو بہتر بنانا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہندوستان میں میڈیا کا مستقبل مکمل طور پر ڈجیٹل ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحت اور سماجی رویّوں پر اس کے اثرات کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔