ایک تحقیق کے مطابق ایران پر امریکہ و اسرائیل جنگ کے دوران آن لائن مسلم مخالف مواد میں اضافہ ہوا ہے،اور اگر ان مواد پر رد عمل کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد اس کے گیارہ گنا تک پہنچ جاتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 1:06 PM IST | Washington
ایک تحقیق کے مطابق ایران پر امریکہ و اسرائیل جنگ کے دوران آن لائن مسلم مخالف مواد میں اضافہ ہوا ہے،اور اگر ان مواد پر رد عمل کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد اس کے گیارہ گنا تک پہنچ جاتی ہے۔
مرکز برائے مطالعہ منظم نفرت (Center for the Study of Organized Hate) کی پیر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق،۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد آن لائن مسلم امریکیوں کے خلاف اسلامو فوبک مواد میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔محققین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر۲۸؍ فروری سے۵؍ مارچ کے درمیان صرف ایک ہفتے میں۲۵۳۴۸؍ سے زائد اسلام مخالف پوسٹس درج کیں۔ ان پوسٹس میں غیر انسانی زبان (جیسے مسلمانوں کو چوہا یاطفیلی کہنا)، تشدد پر اکسانا اور جلاوطنی یا قید خانوں میں ڈالنےکے مطالبات شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کے متعلق تقریباً نصف خبروں میں تعصب : تحقیق
تاہم رپورٹ کے مطابق، جب ری پوسٹس کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ۲۷۹۴۱۷؍تک پہنچ جاتی ہے، جو اصل پوسٹس سے گیارہ گنا زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اوستن، ٹیکساس میںایک مارچ کو ہونے والی فائرنگ کے بعد آن لائن بحث میں مزید شدت آئی، جہاں مبینہ طور پر ایران کا حوالہ دینے والے کپڑے پہنے ایک شخص نے تین افراد کو ہلاک اور۱۵؍ کو زخمی کر دیا تھا۔محققین کا کہنا ہے کہ اس اضافے میں سیاسی قیادت کا کردار بھی شامل ہے۔اس سے قبل امریکی دفاعی سیکرٹری پٹ ہیگستھ نے ایران کو ’’نبوی اسلامی وہم‘‘ سے چلنے والا نظام قرار دیا تھا، جبکہ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ایرانی قیادت کو ’’مذہبی جنونی پاگل‘‘ کہا۔واضح رہے کہ فوجی مذہبی آزادی فاؤنڈیشن میں درج شکایات کے مطابق، امریکی فوج کے جوانوں کو کمانڈروں کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ ایران پر یہ جنگ انجیل میں بیان کردہ ’’ حق و باطل کا معرکہ‘‘ ہے۔