Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظہران ممدانی کا امیروں پر ٹیکس کا منصوبہ، امیر نیویارک چھوڑ رہے ہیں: رپورٹ

Updated: July 16, 2026, 1:24 PM IST | New York

ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ ٹیکس عائد کرنے کے ظہران ممدانی کے منصوبے سے قبل امیر نیویارک چھوڑ رہے ہیں، حکومت کو ایک سال میں ۱۱؍ بلین ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے، اگرچہ نیویارک میں کروڑپتیوں کی تعداد مطلق طور پر بڑھی ہے، لیکن کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا میں یہ تعداد کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔

Zohran Mamdani. Photo: X
ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس

نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی کی جانب سے امیر طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی مہم کے دوران ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حالیہ برسوں میں نیویارک میں امریکی کروڑپتیوںکی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ریاست کو صرف ایک سال میں ممکنہ ٹیکس محصولات میں تقریباً ۱۱؍ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔’’سٹیزنز بجٹ کمیشن‘‘ (سی بی سی) کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اس تحقیق کے مطابق نیویارک میں امریکی کروڑپتیوں کا حصہ۲۰۱۰ء میں۱۲؍ اعشاریہ ۷؍ فیصد تھا جو ۲۰۲۲ءمیں گھٹ کر۸؍ اعشاریہ  ۷؍ فیصد رہ گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر نیویارک نے گزشتہ دہائی کے دوران ملکی کروڑپتیوں میں اپنا حصہ برقرار رکھا ہوتا تو۲۰۲۲ء میں ذاتی انکم ٹیکس سے۱۰؍ اعشاریہ ۷؍ ارب ڈالر اضافین ٹیکس حاصل ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے: یوٹاہ، امریکہ: مسلمان شخص پر چاقو سے حملہ، مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا الزام

اگرچہ نیویارک میں کروڑپتیوں کی تعداد مطلق طور پر بڑھی ہے، لیکن کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا میں یہ تعداد کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی۔ کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں تین گنا اور فلوریڈا میں چار گنا اضافہ ہوا، جس کے باعث نیویارک ان ریاستوں کے بعد چوتھے نمبر پر آ گیا۔یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب میئر ممدانی نے ایک سال میں۱۰؍ لاکھ ڈالر سے زیادہ کمانے والوں پر اضافی۲؍ فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اگر یہ منظور ہوتی ہے تو نیویارک شہر اور ریاست کےمجموعی ٹیکس کی شرح ۱۶؍ اعشاریہ  ۷۷۶؍فیصد تک پہنچ جائے گی، جبکہ وفاقی، ریاستی اور شہری ٹیکس ملا کر شرح ۵۳؍ ۷۷۶؍فیصد ہو جائے گی۔ تاہم، ممدانی اکیلے شہر کے انکم ٹیکس شرح میں اضافہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اختیار البانی (ریاستی دارالحکومت) کو حاصل ہے۔ گورنر کیتھی ہوچل نے واضح کیا ہے کہ وہ انکم ٹیکس میں اضافے کو روک دیں گی اور اس کے بجائے انہوں نے نیویارک شہر میں لگژری سیکنڈ گھروں پر ’’پائی-ڈی-ٹیر‘‘ ٹیکس کی حامی بھری ہے۔ بعد ازاں ممدانی نے ارب پتی سرمایہ کار کین گریفن کے ۲۳؍ اعشاریہ  ۸؍کروڑ ڈالر کے مین ہیٹن پینٹ ہاؤس کے باہر وڈیو بنا کر اپنے ٹیکس منصوبے کو فروغ دیا، جس سے گریفن ناراض ہوئے اور مبینہ طور پر انہوں نے۶؍ ارب ڈالر کے پارک ایونیو منصوبے کو ختم کرنے کی دھمکی دی۔ اس تنازع نے امیر شہریوں اور کاروباریوں کے شہر چھوڑنے کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جون کے آخر میں پڑنے والی شدید گرمی سے ۱۰؍ ہزار سے زائد اموات!

واضح رہے کہ نیویارک کی مالیات کا انحصار محدود تعداد میں اعلیٰ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر ہے۔ ٹیکس فاؤنڈیشن کے ماہر معاشیات جیرڈ والزاک کے مطابق نیویارک میں ٹاپ ایک فیصدامراء ریاست کے کل انکم ٹیکس کا۴۵؍ فیصد ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا شہر چھوڑنا محصولات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 
تاہم، نیویارک شہر اب بھی دولت کا عالمی مرکز ہے۔ یہاں کروڑپتیوں کی تعداد۲۴؍ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ۳۳۰۰۰؍ سے زیادہ افراد کی مالیت کم از کم۳؍ کروڑ ڈالر ہے، جو میامی کی تعداد سے تقریباً دگنا ہے۔ اس کے باوجود، ٹیکس فاؤنڈیشن کے سینئر پالیسی تجزیہ کار ایبیر مینڈل کے مطابق نیویارک ملک بھر میں مسابقت (کمپیٹیٹو نیس) کے لحاظ سے آخری نمبر پر ہے۔ انہوں نے ایلون مسک کی کمپنیوں کو کیلیفورنیا سے ٹیکساس منتقل کرنے کی مثال دی۔سی بی سی کے تجزیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیویارک کی آبادی دیگر تمام ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ کم ہوئی ہے، اور وبا کے بعد آبادی میں بحالی زیادہ تر بین الاقوامی امیگریشن کی وجہ سے ہوئی۔ ریاست کی معیشت نیویارک شہر سے البانی تک ایک کوریڈور میں مرکوز ہے، جبکہ بالائی اور دیہی علاقوں میں مسلسل آبادی گھٹ رہی ہے۔ جبکہ نیویارک فی کس ریاستی و مقامی ٹیکس ۱۲۴۹۵؍ڈالر) میں ملک میں پہلے نمبر پر ہے، جو اوسط سے۷۸؍ فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف امریکی اقدامات کے بعد حمایت کا اعادہ

بعد ازاں ممدانی نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی تاریخ والے شہر میں چار میں سے ایک فرد کا غربت میں زندگی گزارنا ناقابلِ قبول ہے، اور امیر طبقے کو مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، کاروباری رہنما اسٹیو فیولپ (پارٹنرشپ فار نیو یارک سٹی) نے خبردار کیا کہ اگر اعلیٰ آمدنی والے افراد شہر چھوڑ گئے تو کم آمدنی والے شہریوں کے لیے فلاحی پروگراموں کی مالی معاونت خطرے میں پڑ جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK