Updated: February 15, 2026, 8:04 PM IST
| Washington
ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے تیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے پر متفق ہوگئے ہیں، اس دوران ٹرمپ نے کہا کہ ہم پوری قوت کے ساتھ جائیں گے،اس کا ہدف ایران کے ایٹمی پروگرام اور چین کو تیل کی برآمدات ہوں گے، اور تہران پر اقتصادی پابندیاں تیز کرنے کا منصوبہ ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تہران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے اور چین کو تیل کی فروخت کم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ بات بدھ ۱۱؍ فروری کو واشنگٹن میں دونوں لیڈروں کی ایران پر تبادلہ خیال کے لیے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔بعد ازاں ایک سینئر امریکی اہلکار نے ایکزیوس ویب سائٹ کو بتایا،’’ہم نے اتفاق کیا کہ ہم ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کے ساتھ پوری طاقت لگا دیں گے، مثال کے طور پر، چین کو ایران کی تیل کی فروخت کے حوالے سے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران کی۸۰؍ فیصد سے زیادہ تیل کی برآمدات چین بھیجی جاتی ہیں۔ چین کی ایران سے تیل کی خریداری کم کرنے سے تہران پر اقتصادی دباؤ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔ یہ دباؤ کا عمل ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں جاری امریکی فوجی تعمیر کے ساتھ چلے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب بھیج رہا ہے
واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں، ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت وہ اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کو یہ سفارش کرنے کی اجازت دی کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر۲۵؍ فیصد تک ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) عائد کریں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جہاں ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا، وہیں وہ اس دبائو کے طریقہ کار پر متفق نہیں تھے۔ ایکزیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کا امکان ہے، لیکن اسرائیلی لیڈر کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود تہران اس پر عمل نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، مذاکرات میں ’’دباؤ‘‘ کی حکمتِ عملی
تاہم ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر منگل ۱۷؍ فروری کو جنیوا میں ایرانی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کا دوسرا دور کریں گے، جہاں توقع ہے کہ امریکی اہلکاروں کو ایران کی جانب سے امریکی سوالوں کا جواب ملے گا۔ جبکہ ایک امریکی اہلکار نے ایکزیوس کو بتایاکہ ،’’ ہم ایرانیوں کے بارے میں سنجیدہ اور حقیقت پسند ہیں۔ اب گیند ان کے پاس ہے۔ اگر یہ کوئی حقیقی معاہدہ نہیں ہے، تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔مزید برآں روبیو نےسنیچر کو(۱۴؍ فروری) کو کہا کہ ٹرمپ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملنے کے لیے تیار ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل ہو سکیں۔