ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں پناہ کے متلاشی بچوں کے ہوٹلوں سے لاپتہ ہونے والی درجنوں بچیاں ابھی تک نہیں ملیں،چلڈرن کمشنر ریچل ڈی سوزا نے صورتِ حال کوناقابلِ قبول ناکامی قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 10:04 PM IST | London
ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں پناہ کے متلاشی بچوں کے ہوٹلوں سے لاپتہ ہونے والی درجنوں بچیاں ابھی تک نہیں ملیں،چلڈرن کمشنر ریچل ڈی سوزا نے صورتِ حال کوناقابلِ قبول ناکامی قرار دیا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، برطانیہ بھر میں پناہ کے متلاشی افراد کو رکھنے والے ہوٹلوں سے لاپتہ ہونے والے چالیس بچوں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ہے۔ اپنی رپورٹ میں پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا کہ لاپتہ بچوں میں سے دو کے علاوہ باقی تمام اب بالغ ہو چکے ہیں، جبکہ انگلینڈ کی چلڈرن کمشنر ڈیم ریچل ڈی سوزا نے اس مسئلے کو ’’ناقابلِ قبول ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں تلاش کرنے کے لیے اپنی کوششوں سے آگاہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ تین سال بعد سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں پناہ کے خواہشمند سینکڑوںبچوں کے ہوم آفس کے زیرِ انتظام ہوٹلوں سے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افغانستان: ۳۷؍ لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار، ۱۰؍ لاکھ کی جان کو خطرہ: یونیسیف
بعد ازاں گزشتہ سال کمیٹی کو لکھے گئے ایک خط میں اس وقت کی سرحدی سلامتی اور پناہ کی وزیر انجیلا ایگل نے کہا تھا کہ’’ جو بچے ملے ہیں ان میں سے کچھ استحصالی حالات میں تھے اور ممکنہ طور پر ان کی اسمگلنگ کی گئی تھی۔‘‘ کمیٹی نے کہا کہ وہ ابھی تک لاپتہ نابالغ بچوں کی تعداد پر انتہائی پریشان ہے۔تاہم کمیٹی نے ہوم آفس پر زور دیا کہ وہ لاپتہ بچوں کو تلاش کرنے، ان کے غائب ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کرنے اور پناہ کے متلاشی بچوں سے متعلق ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے حوالے سے اپنی کوششوں کی وضاحت کرے۔
دریں اثناء اسکائی نیوز کے مطابق، ہوم آفس کے ترجمان نے کہا، ’‘’ہوم آفس کے زیرِ انتظام پناہ کے متلاشی بچوں کی رہائش گاہیں جنوری۲۰۲۴ء میں بند کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے، ان مقامات سے لاپتہ ہونے والے زیادہ تر بچے بعد میں مل گئے ہیں۔‘‘ مزید برآں ترجمان نے کہا، ’’لاپتہ بچوں کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے پولیس فورسیز ذمہ دار ہیں، اور ہم اپنے ریکارڈ کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، ان کے ساتھ متعلقہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اور ان تحقیقات میں مدد کے لیے مقامی حکام اور تحفظِ اطفال کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔‘‘