Inquilab Logo Happiest Places to Work

افغانستان: ۳۷؍ لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار، ۱۰؍ لاکھ کی جان کو خطرہ: یونیسیف

Updated: August 27, 2026, 9:07 PM IST | Kabul

یونیسیف کے مطابق افغانستان میں تقریباً ۳۷؍ لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکارہیں، جبکہ ۱۰؍ لاکھ بچے شدید جان لیوا غذائی قلت کا شکار ہیں، شدید غذائی قلت کے۸۳؍ فیصد معاملے۲؍ سال سے کم عمر بچوں میں پائے جاتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یونیسیف نے منگل کو بتایا کہ افغانستان میں تقریباً۳۷؍ لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں سے تقریباً۱۰؍ لاکھ بچے جان لیوا شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔افغانستان میں یونیسیف کے نمائندے تاج الدین اویوالے نے کہا کہ شدید غذائی قلت اور طبی پیچیدگیوں کے ساتھ اسپتالوں میں داخل کیے گئے۴۰؍ فیصد بچے ۶؍ ماہ سے کم عمر کے شیر خوار ہیں۔ان کے مطابق، شدید غذائی قلت کے۸۳؍ فیصد معاملات ۲؍ سال سے کم عمر بچوں میں پائے جاتے ہیں۔اویوالے نے بتایا کہ سال کے آغاز سے اب تک۵؍ لاکھ سے زیادہ بچوں کو زیادہ خطرے والی معتدل اور شدید غذائی قلت کے باعث اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، ۱۵؍ نومولود جاں بحق

بعدازاں انہوں نے کہا کہ طبی پیچیدگیوں کے ساتھ شدید غذائی قلت کے داخل ہونے والے ،معاملات میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے، جو جولائی۲۰۲۵ء میں۶۰۰۰؍ سے بڑھ کر جولائی۲۰۲۶ء تک۸۰۰۰؍ ہو گئے۔اویوالے نے کہا، ’’جنوبی افغانستان کے کچھ حصوں میں، کچھ اسپتالوں میں اب ہر دستیاب بستر کے مقابلے میں تین یا چار شدید غذائی قلت کا شکار بچے آ رہے ہیں۔‘‘ یونیسیف کے مطابق، افغانستان کے نصف بچے شدید خوراکی کمیکا شکار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ روزانہ دو یا اس سے کم خوراکی گروپوں کی غذائیں کھاتے ہیں۔یونیسیف کے مطابق، شدید خوراکی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں میں رہنے والے بچوں میں غذائی قلت کے عروج کے دوران کمیکا شکار ہونے کا امکان چھ گنا تک زیادہ ہو سکتا ہے۔
مزیدبرآں اویوالے نے کہا کہ مسلسل خشک سالی، تباہ کن موسلادھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، اس کے ساتھ علاقائی عدم استحکام بھی ہے جس نے سرحد پار تجارت اور روزگار کے ذرائع کو متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ۲۰۲۳ء سے اب تک۶۰؍ لاکھ افراد، جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں، افغانستان واپس آئے ہیں، جس سے ملازمتیں، گھریلو وسائل اور صحت اور غذائیت کی خدمات پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔یونیسیف نے بتایا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے۲۰۲۵ء کے مقابلے میں اس سال شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج کرنے والی ۱۰۰؍ سے زیادہ سہولتیں بند ہو چکی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بچوں اور غذائی قلت کا شکار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو نیوٹریشن سپورٹ فراہم کرنے والے سینکڑوں دیگر مراکز کی بھی امداد ختم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈھاکہ میں برطانیہ، آسٹریلیا، ای یو کے مشنز نے روہنگیا پناہ گزینوں کے میانمار واپسی کے حق پر زور دیا

دریں اثناء ایجنسی کے مطابق، افغانستان میں نیوٹریشن سیکٹر کو ۵۷؍فیصد امداد کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ یونیسیف کے نیوٹریشن پروگرام، جسے اس سال تقریباً۱۸۰؍ ملین ڈالر درکار ہیں، فی الحال صرف ۲۲؍ فیصدامداد دی گئی  ہے۔اویوالے نے کہا، ’’عین اس وقت جب ضروریات بڑھ رہی ہیں، امداد میں تخفیفکی وجہ سے بچوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کم ہو رہی ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK