Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرنس ہیری اور میگھن کا برطانیہ واپسی کا منصوبہ: رپورٹ

Updated: August 20, 2026, 10:15 PM IST | London

ایک رپورٹ کے مطابق پرنس ہیری اور میگھن برطانیہ واپسی کا منصوبہ بنا رہے ہیں، مقامی میڈیا کے مطابق ان کے بچوں پرنس آرچی اور پرنسز للیبیٹ کی ستمبر میں برطانوی اسکول میں تعلیم شروع کرنے کی توقع ہے۔

Prince Harry and Meghan. Photo: X
پرنس ہیری اور میگھن۔ تصویر: ایکس

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق، پرنس ہیری اور میگھن اس ماہ کے آخر میں اپنے دو بچوں کے ساتھ واپس  برطانیہ منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔بی بی سی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ جوڑا امریکہ سے لندن کے باہر ایک نجی، غیر شاہی رہائش گاہ میں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس منتقلی کی خبر سب سے پہلے دی ڈیلی ٹیلی گراف اور دی سن نے شائع کی۔رپورٹس کے مطابق، ان کے بچے،۷؍ سالہ پرنس آرچی اور ۵؍ سالہ پرنسز للیبیٹ، ستمبر میں برطانوی اسکول میں داخلہ لینے کی توقع رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: آسٹریلوی امدادی کارکن کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق نہیں، آسٹریلیا ناراض

رپورٹس کے مطابق، کنگ چارلس سوم کو اتوار کو اس منتقلی کے منصوبے سے آگاہ کیا گیا، جبکہ پرنس ولیم اور کیتھرین، پرنسز آف ویلز، کو بھی اس جوڑے کے منصوبوں سے مطلع کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت ہیری یا میگھن کے شاہی خاندان کے فعال رکن کے طور پر سرکاری کردار دوبارہ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔یہ منصوبہ بند واپسی سسیکس کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے، جو ۲۰۲۰ءکے اوائل میں شاہی فرائض سے دستبرداری کے بعد امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔اس کے علاوہ اپریل ۲۰۲۶ء میں دونوں آسٹریلیا گئے تھے۔ میگھن نے ویمن شیلٹر میں کام کیا اور’’ ماسٹرشیف آسٹریلیا میںمہمان جج بنیں۔ ساتھ ہی جون۲۰۲۶ء میں انہوں نے برطانیہ حکومت کے۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کے فیصلےکا بھی خیر مقدم کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ: ٹرمپ کا دباؤ، جنوبی کوریا کو امریکی اتحاد پر تشویش

واضح رہے کہ پرنس ہیری اور میگھن ۴؍ سال قبل برطانیہ آئے تھے،  اس دوران ان کے بچوں کی ملاقات دادا کنگ چارلس اور کوئین کیملا سے ہوئی تھی۔اس سے قبل وہ شاہی فرائض سے دستبرداری کے بعد امریکہ منتقل ہوگئے تھے، ہیری نے ہمیشہ کہا کہ سیکیورٹی کے بغیر وہ میگھن اور بچوں کوبرطانیہ نہیں لائیں گے۲۰۲۰ء میں شاہی کردار چھوڑنے کے بعد ان کی سرکاری سیکیورٹی ختم کر دی گئی تھی ۔ جبکہ ابھی بھی سیکیورٹی کا فیصلہ زیر التوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK