عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ غذا ہر سال ۱۵؍ لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے، ان میں سے ۷۳؍ فیصد اموات کا سبب غذا میں موجود کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 7:06 PM IST | New York
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ غذا ہر سال ۱۵؍ لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے، ان میں سے ۷۳؍ فیصد اموات کا سبب غذا میں موجود کیمیائی مادے ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا کہ غیرمحفوظ غذا ہر سال ۱۵؍ لاکھ افراد کی جان لے لیتی ہے، جن میں پانچ سال سے کم عمر بچے خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔۲۰۰۰ء سے۲۰۲۱ء تک۱۹۴؍ ممالک پر مبنی WHO کے تجزیے سے پتہ چلا کہ تقریباً۸۸؍ کروڑ ۶۰؍ لاکھ افراد آلودہ کھانا کھانے سے ہر سال بیمار پڑتے ہیں، اور چھوٹے بچے دوسری عمر کے گروپوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادانوم گیبریئسس نے کہا کہ ’’غذائی تحفظ کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں یہ ہر کھانے، ہر خاندان، کو ہر روز متاثر کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈبلیو ایم او کا انتباہ: ال نینو کا خطرہ بڑھا، شدید گرمی، کمزور مانسون کا اندیشہ
اگرچہ۲۰۰۰ء سے خوراک سے متعلق بیماریوں کی مجموعی شرح میں کمی آئی ہے، لیکن علاقائی تفاوت برقرار ہے۔ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا مل کر غیرمحفوظ خوراک سے منسلک عالمی معاملات کا تقریباً تین چوتھائی اور اموات کا ۶۰؍فیصد حصہ دار ہیں۔۲۰۲۱ء میں بیکٹیریا اور وائرس سمیت حیاتیاتی خطرات کے سبب تقریباً۸۶؍ کروڑمعاملات سامنے آئے، جو خوراک سے پیدا ہونے والی زیادہ تر بیماریوں کا سبب بنے۔ تاہم، کیمیائی آلودگیوں نے اموات میں غیر متناسب کردار ادا کیا، جس میں سنکھیا (arsenic) اور سیسہ (lead) اہم غیر حیاتیاتی اسباب تھے۔ڈبلیو ایچ او کی فوڈ سیفٹی کی تکنیکی افسر یوکی میناٹو نے خبردار کیا کہ’’ مسئلہ بڑھ رہا ہے، موسمیاتی تبدیلی آلودگی کے خطرات بڑھا رہی ہے، اور اینٹی مائکروبیل مزاحمت انفیکشن کا علاج مشکل بنا رہی ہے۔‘‘عہدیداروں کے مطابق بھاری دھاتوں کی آلودگی اکثر صنعتی آلودگی اور غیر محفوظ زرعی کھادکے استعمال سے ہوتی ہے، جو پہلے ہی محدود ریگولیٹری نگرانی کے بوجھ تلے دبے ہوئے خطوں میں خطرات کو بڑھارہے ہیں۔بعد ازاں مطالعے کے مطابق، انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ، خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریاں ۲۰۲۱ء میں عالمی معیشت کے۶۴۷؍ بلین ڈالر کی پیداواری صلاحیت کے نقصان کا سبب بنیں۔