ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ امریکی ہتھیاروں کےذخائر کو تیزی سے ختم کررہی ہے، اس کے علاوہ عالمی سطح پر روس اور چین کے خلاف مدافعت کی صلاحیت کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 10:07 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ امریکی ہتھیاروں کےذخائر کو تیزی سے ختم کررہی ہے، اس کے علاوہ عالمی سطح پر روس اور چین کے خلاف مدافعت کی صلاحیت کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ میں جدید ہتھیاروں کے بھرپور استعمال نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو شدید طور پر ختم کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کی چین اور روس کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے۔فوجی منصوبہ سازوں نے تشویش ظاہر کی کہ وسائل کی اس کمی نے امریکی یورپی کمانڈ جو پورے براعظم میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہے کو اپنے فوجی منصوبوں میں تبدیلی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔امریکی حکام نے اندازہ لگایا کہ اگر قریب المدت میں تائیوان جو ایک خود مختار جزیرہ ہے اور جس پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے کے خلاف فوجی کارروائی ہوتی ہے تو امریکہ ہنگامی منصوبوں کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کے فوجی اڈے ہمارے نشانے پر ہیں، روس کا انتباہ
دریں اثناء حکام کے مطابق، جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی سے مشرق وسطیٰ میں فضائی دفاعی یونٹوں کی منتقلی نے امریکی عالمی فوجی پوزیشن کو کمزور کردیاہے، جنہیں بھرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔بعض حکام نے دعویٰ کیا کہ یورپ میں پی اے سی-۳؍ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر اور اے ٹی اے سی ایم ایس سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائرتشویشناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔مزید برآں، تھاڈ اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز اور ڈرون شکن نظام بھی مشرق وسطیٰ کی طرف موڑ دیے گئے ہیں، جس سے براعظمی سپلائیمتاثرہو گئی ہے۔ بعد ازاں ان اقدامات نے روسی میزائل حملوں کے جاری رہنے کے دوران مغربی ممالک کی یوکرین کو انٹرسیپٹرز بھیجنے کی صلاحیت کو شدید طور پر محدود کر دیا ہے۔
یہ بھی پرھئے: ’’نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کا نیا دشمن قرار دے کرسیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں‘‘
تاہم وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے سرکاری طور پر کسی بھی گولہ بارود کی قلت کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تمام اہداف کو پورا کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔