• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریا کا جمہوریت انڈیکس مسلسل چوتھے سال زوال پذیر: تحقیق

Updated: October 21, 2026, 10:14 PM IST | Vienna

ایک تحقیق کے مطابق آسٹریا کا جمہوریت انڈیکس مسلسل چوتھے سال زوال پذیری کا شکار ہے، یہ زوال خاص طور پر عدلیہ اور ڈیجیٹل بنیادی حقوق میں واضح ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دس غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے اتحاد کی جانب سے منگل کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق، جو حکومت اور پارلیمنٹ کی لبرل جمہوریت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا جائزہ لے رہی ہے، آسٹریا کا جمہوریت انڈیکس مسلسل چوتھے سال گر گیا ہے۔انڈیکس۵۴؍ اعشاریہ ایک فیصد تک گر گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد پوائنٹ کم ہے اور۲۰۱۹ء کے بعد سے اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے، جب یہ۵۳؍ اعشاریہ ۸؍ فیصد تھا۔واضح رہے کہ جمہوری حالات کا جائزہ سالانہ شائع کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہ چارلس سوم نے سلطانِ عمان کے اعزاز میں حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیا

انڈیکس سات ستونوں کے ارد گرد تشکیل دیا گیا ہے،خودمختار، سیاسی جماعتیں، مقنہ، انتظامیہ، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی، ہر ایک کئی ابواب پر مشتمل ہے۔عدلیہ کے زمرے میںگزشتہسال کے مقابلے میں چار فیصد پوائنٹس کی تیزی سے کمی کو، مستقل عہدوں کی کمی، تعزیری اور اصلاحی نظاموں میں خراب حالات، اور وفاقی پبلک پراسیکیوٹر آفس کی طرف سے ناکافی یا عدم نفاذ سے منسوب کیا گیا ہے۔کل۱۶؍ میں سے آٹھ ابواب میں بگاڑ دیکھا گیا۔ عدلیہ کے علاوہ، یہ رجحان خودمختار زمرے میں واضح ہے - خاص طور پر عام طور پر بنیادی حقوق کے حوالے سے، اسکولوں میں۱۴؍ سال سے کم عمر لڑکیوں کے لیے ہیڈ اسکارف پر پابندی ،  ڈیجیٹل بنیادی حقوق، جیلوں میں بھیڑ کو، وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میٹا پر اسرائیلی بوٹس کی اجتماعی رپورٹنگ کے ذریعے اکاؤنٹس بند کرانے کا الزام

جبکہ میڈیا کے زمرے میں گراوٹ کاجحان، جو برسوں سے جاری ہے، بھی جاری رہا۔ انڈیکس میں عوامی شرکت کے خلاف اسٹریٹجک مقدمات (SLAPP) کے خلاف قانون کی کمی، عوامی نشریاتی ادارے ORF پر سیاسی اثر و رسوخ کے مواقع، اور میڈیا سیکٹر میں معاشی دباؤ کو بگاڑ کی وجوہات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔بعد ازاں ڈیموکریسی انڈیکس کے منتظمین نے پارلیمنٹ میں زیادہ شفافیت کا بھی مطالبہ کیا، خاص طور پر اس کے اراکین کی آمدنی اور مالی مفادات کے حوالے سے۔
این جی او مائنے آبگیورڈنیٹن (مائی ریپریزنٹیٹوز) کی ماریون بریٹشوف نے مطالعہ میں کہا، ’’ایک لچکدار جمہوریت کو ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو شفاف طریقے سے ظاہر کریں کہ وہ کن مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ کیسے ووٹ دیتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK