Updated: August 06, 2026, 1:02 PM IST
| Washington
دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ جریدہ Science میں شائع ہونے والی ایک نئی عالمی تحقیق کے مطابق انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا میں ۳۰؍ ہزار سے ۷۵؍ ہزار تک زبانیں رائج تھیں، لیکن آج صرف تقریباً ۷۵۰۰؍ زبانیں باقی رہ گئی ہیں۔
انسان نے ہزاروں برسوں میں بے شمار تہذیبیں، مذاہب، رسم و رواج اور زبانیں تخلیق کیں، مگر اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا خاموشی سے اپنی لسانی دولت کھو رہی ہے۔ نئی عالمی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی تاریخ کے ایک دور میں دنیا میں ۳۰؍ ہزار سے ۷۵؍ ہزار تک زبانیں بولی جاتی تھیں، لیکن آج یہ تعداد گھٹ کر صرف تقریباً ۷۵۰۰؍ رہ گئی ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی ہے، جس میں ماہرینِ لسانیات، بشریات اور آبادیات نے ریاضیاتی ماڈلز، تاریخی شواہد اور موجودہ شکاری و قبائلی معاشروں کے اعداد و شمار کی مدد سے گزشتہ ۱۲؍ ہزار برس کے دوران زبانوں کی تعداد کا تخمینہ لگایا۔ محققین کے مطابق زبانوں کا ’’سنہری دور‘‘ پہلی صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی کے درمیان تھا، جب دنیا میں لسانی تنوع اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دبئی میں مقیم ہندوستانی طالبہ عرب امارات کی جانب سے سیٹیلائٹ لانچنگ کیلئے منتخب
تحقیق کی شریک مصنفہ اور ییل یونیورسٹی کی ماہرِ لسانیات پروفیسر کلیئر باورن نے کہا کہ ’’زبانیں اپنی برادریوں کے لیے بے حد معنی رکھتی ہیں۔ وہ علم، یادیں، روایات اور اجتماعی شناخت اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ سائنس دانوں کے لیے بھی زبانیں ماضی، انسانی ہجرت، خوراک، ثقافت اور انسانی ذہن کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔‘‘ مطالعے کے مرکزی مصنف ڈیمیئن بلاسی کے مطابق انسان آج ایک ایسے دور میں رہ رہا ہے جہاں لسانی تنوع ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم شاذ و نادر ہی اس حقیقت کو محسوس کرتے ہیں کہ صرف چند ہزار سال پہلے انسان آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ متنوع ثقافتی دنیا میں رہتا تھا۔‘‘
تحقیق کے مطابق ابتدا میں جب انسان چھوٹی چھوٹی آبادیاں بنا کر مختلف علاقوں میں آباد ہوا تو الگ الگ زبانیں وجود میں آئیں، لیکن بعد میں بڑی سلطنتوں کے قیام، جنگوں، فتوحات، نوآبادیاتی نظام اور طاقتور زبانوں کے غلبے نے ہزاروں مقامی زبانوں کو ختم کر دیا۔ یورپی استعمار کے دور میں بھی متعدد مقامی زبانوں کو سرکاری اور تعلیمی نظام سے باہر کر دیا گیا، جس کے باعث کئی زبانیں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گئیں۔ رپورٹ میں سمیری، اکادی، حتی، ایٹرسکن اور قدیم مصر و چین کی متعدد زبانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اب صرف تاریخی ریکارڈ کا حصہ رہ گئی ہیں، جبکہ لاطینی جیسی بعض زبانیں وقت کے ساتھ بدل کر فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی اور دیگر جدید زبانوں میں تبدیل ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۳؍ برس میں ۲؍ لاکھ ۶۸؍ اسرائیلیوں نے اسرائیل چھوڑ دیا: تحقیق
ماہرین کے مطابق آج دنیا کی تقریباً نصف زبانیں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ۹۰؍ فیصد آبادی صرف ۱۰؍ فیصد زبانیں بولتی ہے۔ اس کے برعکس ہزاروں زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد چند سو یا چند ہزار افراد تک محدود رہ گئی ہے۔ زبانوں کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر زبان اپنے ساتھ صدیوں کا مقامی علم بھی محفوظ رکھتی ہے، جس میں نباتات، ادویات، زراعت، موسم، دریاؤں، جنگلات اور مقامی ماحول سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔ جب کوئی زبان ختم ہوتی ہے تو صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کا تجربہ بھی دنیا سے مٹ جاتا ہے۔
اس سے قبل آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بھی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ۲۱۰۰ءتک مزید تقریباً ۱۵۰۰؍ زبانیں معدوم ہو سکتی ہیں۔ محققین نے دو لسانی تعلیم، مقامی زبانوں کی دستاویز بندی اور حکومتی سرپرستی کو زبانوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈجیٹل دور میں جہاں دنیا پہلے سے زیادہ جڑ رہی ہے، وہیں یہ خطرہ بھی بڑھ رہا ہے کہ چھوٹی زبانیں بڑی عالمی زبانوں کے دباؤ میں مزید کمزور ہو جائیں۔ ان کے مطابق اگر زبانوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ نسلیں صرف کتابوں میں ان زبانوں کے نام پڑھیں گی، مگر انہیں بولنے والا کوئی نہیں ہوگا۔