Updated: August 04, 2026, 8:06 PM IST
| Tel Aviv
تل ابیب یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق گزشتہ تین برس (۲۰۲۳ء تا ۲۰۲۵ء) کے دوران تقریباً ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار اسرائیلی کم از کم تین ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے اسرائیل چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ تحقیق میں اسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی ہجرت قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اسرائیل کو انسانی وسائل، معیشت اور آبادی کے توازن کے حوالے سے طویل المدتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیل سے بیرونِ ملک ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان تقریباً ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار ۹۳۰؍ اسرائیلی کم از کم تین ماہ یا اس سے زیادہ مدت کے لیے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہوئے، جو حالیہ تاریخ میں ہجرت کی بلند ترین سطحوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق ۲۰۲۳ء میں ۸۶۵۰۹؍ اسرائیلی ملک سے باہر گئے۔ ۲۰۲۴ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۹۱۴۹۹؍ ہوگئی۔ ۲۰۲۵ء میں مزید ۹۰۹۲۲؍ افراد نے طویل مدت کے لیے اسرائیل چھوڑا۔
اس طرح تین برسوں میں مجموعی تعداد تقریباً ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار ۹۳۰؍ تک پہنچ گئی، یعنی اوسطاً ہر سال تقریباً ۹۰؍ ہزار افراد نے ملک چھوڑا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۹ء کے دوران ہر سال اوسطاً تقریباً ۶۰؍ ہزار افراد طویل مدت کے لیے اسرائیل سے باہر جاتے تھے، جبکہ موجودہ اعداد و شمار اس اوسط کے مقابلے میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسی طرح ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۵ء کے درمیان تین برسوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ ۸۳؍ ہزار ۲۱۹؍ طویل المدتی روانگیاں ریکارڈ کی گئی تھیں، جو موجودہ دور کے مقابلے میں کم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۳؍ سال سے غزہ کے حق میں تنہا احتجاج کرنے والے کارکن
تحقیق کی نگرانی کرنے والے تل ابیب یونیورسٹی کے کولیئر اسکول آف مینجمنٹ کے پروفیسر ایتائی ایٹر نے کہا کہ ’’اسرائیلیوں کی اتنی بڑی تعداد کا طویل مدت کے لیے ملک چھوڑنا انتہائی تشویش ناک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ ’’اصل خطرہ صرف موجودہ اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ امکان ہے کہ ہجرت کی شرح موجودہ سطح پر رکنے کے بجائے مزید بڑھتی رہے۔‘‘ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کئی برسوں تک نسبتاً مستحکم رہنے والے آمد و رفت کے توازن (Migration Balance) میں اب واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی غزہ پر تازہ جارحیت، گولہ باری اور فائرنگ،۱۹؍ فلسطینی شہید
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں ایک اور تحقیق میں بھی ڈاکٹروں، انجینئروں، پی ایچ ڈی ہولڈرز، جامعات سے وابستہ ماہرین اور زیادہ آمدنی رکھنے والے پیشہ ور افراد کی اسرائیل سے ہجرت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی تھی، جس سے ’’برین ڈرین‘‘ کے خدشات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اسرائیل کو مستقبل میں نہ صرف آبادی بلکہ صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور معیشت جیسے اہم شعبوں میں بھی افرادی قوت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم تحقیق میں ہجرت کی وجوہات پر تفصیلی تجزیہ پیش نہیں کیا گیا، بلکہ بنیادی توجہ حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے ممکنہ اثرات پر مرکوز رکھی گئی ہے۔