Updated: January 09, 2026, 3:14 PM IST
| New Delhi
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سمندروں میں جمع ہونے والے مائیکرو پلاسٹک کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی سمندری صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس عمل سے عالمی حدت کے خلاف زمین کا سب سے مؤثر قدرتی دفاع کمزور ہو رہا ہے، جس کے طویل المدتی نتائج ماحولیاتی توازن اور انسانی زندگی دونوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق، دنیا کے سمندروں میں پھیلنے والے مائیکرو پلاسٹک زمین کے قدرتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے یہ نہایت چھوٹے ذرات سمندری حیاتیاتی عمل میں خلل ڈال رہے ہیں، جس سے گلوبل وارمنگ کے خلاف سمندروں کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔ سمندر اس وقت انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہر سال جذب کرتے ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق، مائیکرو پلاسٹک اس قدرتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: تیج لال بھارتی کی تاریخی ’بچوں کا گھر‘ کی بحالی میں عوامی تعاون کی اپیل
تحقیق کے مصنفین میں شامل شارجہ یونیورسٹی کے محقق احسان اللہ عبید اللہ نے کہا کہ ’’سمندر کرۂ ارض کا سب سے بڑا ایسا سسٹم ہے جو کاربن جذب کرتا ہے لیکن مائیکرو پلاسٹک موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اس قدرتی ڈھال کو کمزور کر رہے ہیں۔‘‘ یہ تحقیق جرنل آف ہزارڈس مٹیریلس میں شائع ہوئی ہے اور اس کا انحصار نئے لیبارٹری تجربات کے بجائے موجودہ سائنسی مطالعات کے جامع جائزے پر ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک ’’حیاتیاتی کاربن پمپ‘‘ میں مداخلت کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو فائٹوپلانکٹن اور زوپلانکٹن کے ذریعے کاربن کو سمندر کی سطح سے گہرے پانیوں تک منتقل کرتا ہے۔ محققین کے مطابق، مائیکرو پلاسٹک فائٹوپلانکٹن میں فوٹو سنتھیس کے عمل کو کم کرتے ہیں جبکہ زوپلانکٹن کے میٹابولزم کو متاثر کر کے اس پورے نظام کو کمزور بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بہار: نتیش کمار حجاب تنازع، ڈاکٹر نصرت پروین نے عہدہ سنبھال لیا: رپورٹ
تحقیق میں اس جرثومی دنیا کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پلاسٹک کے ذرات پر آباد ہو جاتی ہے، جسے ’’پلاسٹیسفیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جرثومے کاربن اور نائٹروجن کے قدرتی چکروں میں تبدیلی لا سکتے ہیں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ احسان اللہ عبید اللہ نے خبردار کیا کہ مائیکرو پلاسٹک نہ صرف سمندری حیات کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ حیاتیاتی کاربن پمپ کو بھی کمزور کرتے ہیں اور انحطاط کے دوران خود بھی گرین ہاؤس گیسیں خارج کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، طویل المدتی اثرات میں سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، تیزابیت، حیاتیاتی تنوع کا نقصان اور اس کے نتیجے میں خوراک کی سلامتی اور ساحلی برادریوں کو درپیش خطرات شامل ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ مائیکرو پلاسٹک سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کے شواہد بڑھ رہے ہیں، تاہم ان کے مکمل آب و ہوا پر اثرات کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا۔ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں پلاسٹک کی سالانہ پیداوار ۴۰۰؍ سے ۴۳۰؍ ملین ٹن کے درمیان ہے، جس میں سے ۱۰؍ فیصد سے بھی کم ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو ۲۰۶۰ء تک پلاسٹک کی پیداوار تین گنا ہو سکتی ہے۔ مطالعہ کے مصنفین نے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ پلاسٹک کی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو الگ الگ مسائل کے بجائے باہم جڑے ہوئے چیلنجوں کے طور پر دیکھیں۔ اس مقصد کے لیے پلاسٹک کے استعمال میں کمی، فضلہ کے بہتر انتظام اور مائیکرو پلاسٹک کے ماحولیاتی اثرات پر مزید تحقیق کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ آخر میں عبید اللہ نے کہا کہ ’’ہمارا اگلا قدم مائیکرو پلاسٹک کے آب و ہوا پر اثرات کو کم کرنا اور مربوط حل تیار کرنا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک ماحولیاتی آلودگی نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی پائیداری کا چیلنج ہے۔‘‘