• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنگ کوبرا اب پورے ہندوستان میں پھیل گیا ہے، وجہ انڈین ریلوے : محققین

Updated: February 14, 2026, 3:02 PM IST | New Delhi

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستان میں کنگ کوبرا اور دیگر سانپ انڈین ریل کے ذریعے سفر کر کے ملک کے مختلف علاقوں میں پھیل رہے ہیں۔ محققین نے بتایا کے گوا کے غیر موزوں علاقے میں ۴۷؍ جگہوں پر سانپوں کو دریافت کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ کنگ کوبرا ہندوستان کے مصروف ترین ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ مغربی گھاٹ کے کنگ کوبرا (اوفیو فیگس کالنگا)، جو ہندوستان میں ایک کم یاب نسل ہے، کا ریل گاڑیوں کے ذریعے ہجرت کر کے ہندوستان کی مغربی سیاحتی ریاست گوا کے بہت سے حصوں میں پائے جانے کا ثبوت ملا ہے۔ عام طور پر اس نسل کے سانپ گوا کے جنگلاتی علاقوں میں، اور دریاؤں اور ندیوں کے قریب، ریاست کے مشہور ساحلی علاقوں سے دور پائے جاتے ہیں۔ تاہم، کئی دہائیوں کے ریکارڈ کا جائزہ لینے والی نئی تحقیق نے کچھ غیر متوقع علاقوں میں ریلوے سائٹس کا انکشاف کیا جہاں کنگ کوبرا، دنیا کے سب سے لمبے زہریلے سانپوں کو پایا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقے ان نسلوں کیلئے ان کے قدرتی رہائش گاہ کے طور پر قطعی موزوں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پی ایم مودی پر ’’دی وائر‘‘ کا اینی میشن ویڈیو بلاک، صحافتی تنظیموں کی شدید مذمت

نتائج بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے ریلوے نیٹ ورک، جو مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں مصروف ترین ہے، کنگ کوبرا کیلئے نقل مکانی کا ذریعہ بن گیا ہے اور سانپوں کو غیر موزوں رہائش گاہوں تک پہنچا رہے ہیں۔ تحفظ برائے سانپ کے اعداد و شمار اور تصدیق شدہ مقامی رپورٹس کا تجزیہ کرتے ہوئے ۲۰۰۲ء سے ۲۰۲۴ء تک، محققین کو گوا میں   ۴۷؍ علاقے ایسے ملے ہیں، جہاں او کلنگا سانپ کو دیکھا گیا ہے، جن میں سے ۱۸؍ ریاست کے شمالی حصے میں، اور ۲۹؍ جنوب میں ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پانچ کنگ کوبرا ریکارڈ مصروف ریلوے راہداریوں کے قریب تھے۔ انہوں نے جرنل بائیو ٹروپیکا میں شائع ہونے والی تحقیق میں لکھا، ’’یہ قابل ذکر ہے کہ پانچ ریکارڈ جہاں کنگ کوبرا پائے گئے ہیں، وہاں ان کی موجودگی کا امکان سب سے کم تھا۔‘‘ محققین نے مزید لکھا، ’’حالیہ برسوں میں کم قیمت والے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی عالمی دستیابی کے ساتھ، ہندوستان میں ٹرینوں میں اور اس کے آس پاس سانپوں کے ویڈیوز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے تین واقعات ۳۰؍ دن کے عرصے میں ریکارڈ کئے گئے۔ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے ویڈیوز شیئر کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اڈانی ہتک عزت کیس: صحافی روی نائر کی ایک سال قید پر عالمی سطح پر مذمت

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’’ہندوستان میں ٹرینوں میں سانپوں اورریل یارڈ میں رینگنے والے غیر مانوس جانوروں اور حالیہ تحقیق میں پائے گئے او کلنگا کے ساتھ ساتھ کنگ کوبرا بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہیں شبہ ہے کہ ہندوستان کی مال بردار ٹرینوں میں چوہوں اور دیگر سانپوں کی شکل میں شکار کی دستیابی کے ساتھ ساتھ پناہ گاہ اور بے حسی بھی اس ہجرت کا سبب ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے لکھا، ’’ہمارے نتائج ایک مختلف، زیادہ غیر فعال طریقہ کار تجویز کرتے ہیں: سانپوں کی ہجرت اور مختلف علاقوں ک تک پھیل جانے میں ریلوے نہ صرف فعال نقل و حرکت کیلئے راہداری کے طور پر بلکہ تیز رفتار نقل مکانی طور پر کام کر سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ریلوے کیلئے نادانستہ طور پر آبادیوں کو دوسری صورت میں غیر موزوں رہائش گاہوں سے جوڑنے کی صلاحیت انسان اور جنگلی حیات کے تعامل کے ایک نئے اور غیر معروف پہلو کی نمائندگی کرتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK