مرکزی بینک نے ہندوستانی کمپنیوں کی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی اوورسیز ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (او ڈی آئی) کی جانچ پڑتال کافی سخت کر دی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترہ۔ تصویر: آئی این این
بیرون ملک بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں پر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے سخت نگرانی شروع کر دی ہے۔ ایک طرف غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (ایف پی آئی) ہندوستانی بازار سے رقم نکال رہے ہیں، تو دوسری طرف ڈالر کے مقابلے میں روپے کو سنبھالنے کا چیلنج برقرار ہے۔ اسی صورتحال کے درمیان بینکنگ ریگولیٹر نے ہندوستانی کمپنیوں کی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی اوورسیز ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (او ڈی آئی) کی جانچ پڑتال کافی سخت کر دی ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے آر بی آئی نے ملک کے اہم بینکوں کو ایک تفصیلی اور طے شدہ معیار پر مبنی چیک لسٹ سونپی ہے۔ اس فہرست میں ان سبھی معلومات کی تفصیل درج ہے، جو بینکوں کو بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والی کارپوریٹ کمپنیوں سے جمع کرکے آر بی آئی کو فراہم کرنی ہوں گی۔ یہ نیا ضابطہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی تمام غیر ملکی سرمایہ کاری پر نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ہندوستانی کمپنی اپنی مجموعی خالص مالیت کی ۴؍ گنا مقررہ حد سے زیادہ رقم بیرون ملک میں لگاتی ہے، تو اسے بھی اس جانچ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
مرکزی بینک نے بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے لیکن بیرون ملک رقم بھیجنے والے بینکوں سے جس طرح سودے کے پیچھے کی منطق، ٹھوس وجہ اور مالیاتی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، اس سے واضح ہے کہ آر بی آئی ملک سے باہر جانے والے بڑے فنڈ پر باریک بینی سے نظر رکھ رہا ہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو حالیہ دنوں میں ملک سے ڈالر باہر جانے کی ایک بڑی وجہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی رہی ہے۔ ۵؍ برس قبل ہندوستانی کمپنیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری تقریباً ۱۱؍ ارب ڈالر تھی، جو اس مالی سال میں بڑھ کر ۳۰؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔