Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا بھائندر کے باشندوں کیلئے بڑی راحت، مقامی عدالت میں ڈسٹرکٹ اور سیشن ججوں کی منظوری

Updated: August 28, 2026, 11:14 AM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road

میرا بھائندر کے شہریوں کیلئے ایک راحت بخش خبر سامنے آئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کی نئی عدالتوں کے قیام سے متعلق کمیٹی نے میرا بھائندر کی سول اور کریمنل کورٹ کیلئے اضافی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں نیز سینئر ڈویژن سول ججوں کے نئے عہدوں کو منظوری دے دی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

میرا بھائندر کے شہریوں کیلئے ایک راحت بخش خبر سامنے آئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کی نئی عدالتوں کے قیام سے متعلق کمیٹی نے میرا بھائندر کی سول اور کریمنل کورٹ کیلئے اضافی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں نیز سینئر ڈویژن سول ججوں کے نئے عہدوں کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب مقامی سطح پر ہی سنگین نوعیت کے مقدمات کی سماعت ممکن ہو سکے گی جس سے نہ صرف مقدمات کو رفتار ملے گی بلکہ التواء کا شکار معاملات بھی جلد حل ہو سکیں گے۔ اس سلسلے میں تھانے کے چیف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ میراروڈ کی عدالت کا افتتاح ۸؍ مارچ ۲۰۲۳ء کو ہوا تھا۔ فی الوقت اس عدالت میں ۶؍ ججوں کی فرسٹ کلاس اور جونیئر ڈویژن سطح کی عدالتیں ہی کام کر رہی ہیں جہاں محض ۵ ؍لاکھ روپے تک کے سول دعوے اور معمولی نوعیت کے کریمنل مقدمات چلائے جاتے ہیں جبکہ قتل اور پوکسوجیسے سنگین جرائم کیلئے فریقین کو تھانے عدالت کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:گوا میں انسداد تبدیلی مذہب بل کو کابینہ کی منظوری، عمر قید تک سزا کی تجویز

نئی منظوری کے بعد اب سنگین کریمنل مقدمات کی سماعت بھی میرا بھائندر میں ہی تھانے کورٹ کے مساوی سطح پر ہو سکے گی جس سے عدالتوں پر بڑھتا ہوا بوجھ بھی کم ہوگا۔ میرا بھائندر بار اسوسی ایشن کے سیکریٹری ایڈوکیٹ پروین پاٹل کے مطابق ہائی کورٹ کی کمیٹی نے ججوں کے عہدوں کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم انتظامی اور مالیاتی سطح پر اسامیوں کی حتمی منظوری کے عمل میں تقریباً ۶؍ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت تھانے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں میرا بھائندر سے متعلق ۱۷۰۰ ؍ سے زائد سول دعوے اور ۷۰۰ ؍سے زائد سنگین کریمنل مقدمات زیر التواء ہیں۔ جیسے ہی نئی عدالتیں مکمل طور پر فعال ہوں گی، یہ تمام مقدمات فوری طور پر یہاں منتقل کر دیئے جائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: جی ایس ٹی کے مجوزہ نئے ضوابط سے ٹیکسٹائل صنعتکاروں میں تشویش

میرابھائندر ایڈوکیٹس ویلفیئر اسوسی ایشن کے سیکریٹری ایڈوکیٹ شہود انور نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے انقلاب سے کہاکہ یہ برسوں کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے جس کا آغاز عدالت کے قیام کی مہم سے ہوا اور اس کے بعد ہم نے سینئر ڈویژن اور سیشن کورٹ کے حصول کیلئے متعلقہ حکام سے باضابطہ خط و کتابت کی جس کا سلسلہ اپریل ۲۰۲۵ ء میں شروع ہوا تھا۔ یہ پیش رفت میرا روڈ کے وکلاء برادری اور عوام کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی اور انہیں اعلیٰ عدالتی معاملات کیلئے تھانے جانے کی زحمت اور اخراجات سے نجات ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا روڈ اور گردونواح کی آبادی تیزی سے ۲۰ ؍لاکھ کی اس حد کے قریب پہنچ رہی ہے جو فیملی کورٹ کے قیام کیلئے درکار ہے۔ ہماری اسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ حکام ابھی سے اس ضرورت کے پیش نظر تیاری شروع کریں تاکہ آبادی کا یہ ہدف پورا ہوتے ہی میرا روڈ میں فیملی کورٹ کے قیام میں تاخیر نہ ہو اور یہاں کے شہریوں کو خاندانی تنازعات کیلئے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK